طرابلس:حالات معمول پر لانے کے لیے اقدامات

فائل فوٹو، تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دارالحکومت طرابلس کی گلیوں میں ہتھیاروں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے

لیبیا کے نئے رہنماؤں نے انقلاب کے بعد دارالحکومت طرابلس میں صورتحال معمول پر لانے کے لیے اقدامات کرنے شروع کر دیے ہیں۔

باغیوں کی نیشنل ٹرانزیشنل کونسل یا این ٹی سی کے ایک فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ جنگجوؤں کے واپس اپنے گھروں کو جانے یا فوج میں شمولیت اختیار کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

این ٹی سی کے رہنماء مصطفیٰ عبدل جلیل کا کہنا ہے کہ آئندہ ہفتے حزب اختلاف کے رہنماء بن غازی سے دارالحکومت طرابلس منتقل ہو جائیں گے اور ملک کی نئی حکومت کا اعلان کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ دانا افراد اور قبائلی رہنماؤں پر مبنی ایک پینل تشکیل دیا جائے گا جو مصالحت کے لیے کام کرے گا۔

واضح رہے کہ باغیوں کے رہنماؤں نے چند روز پہلے پیرس میں لیبیا کی صورتحال پر بلائے گئے اجلاس میں شرکت کی تھی اور وہاں عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کی تھیں۔

اس اجلاس میں امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن سمیت چین اور روس کے نمائندوں سمیت تریسٹھ ممالک کے مندوبین شریک ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption معمر قذافی کہاں ہیں یہ کوئی نہیں جانتا تاہم جمعرات کو عرب ذرائع ابلاغ نے ان کے تین پیغامات نشر کیے تھے

باغیوں کے کونسل کے فوجی ترجمان جنرل عمر حریری نے کہا کہ باغی جنگجو ڈاکٹر، انجینئیرز، وکیل اور دیگر پروفیشنلز ہیں اور بلاًآخر انھیں اپنی ملازمتوں پر واپس جانا ہے۔

’ان لوگوں نے کرنل قذافی کے خلاف جدوجہد میں شمولیت کے لیے سب کچھ ترک کر دیا تھا اور اب وہ اپنی اصل زندگیوں کی جانب لوٹ جائیں گے اور بچ جانے والوں کو فوج میں شمولیت اختیار کرنے کا موقع دیا جائے گا۔

طرابلس میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کرنل قذافی کی روپوشی اور چند علاقوں پر ان کی حامی فوج کے قبضے کے باوجود اس وقت لیبیا میں انقلاب کا جشن منایا جا رہا ہے۔

دارالحکومت طرابلس میں مسلح نوجوان باغیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور باغیوں کی کونسل اب انھیں واپس گھر جانے کے لیے کہہ رہی ہے۔

دارالحکومت طرابلس اور دیگر شہروں کی گلیوں میں ہتھیاروں کی ایک کثیر تعداد میں موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

دارالحکومت میں موجود یورپی اتحاد کے اعلیٰ نمائندے نے ہتھیاروں کی موجودگی پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ’ہر کوئی کلاشنکوف لیےگھوم رہا ہے۔‘

باغیوں کی کونسل نے بھی ہتھیاروں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’قاتل کے شکار‘یعنی کرنل قذافی لیے ان ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔

اس سے پہلے روپوش رہنماء کرنل معمر قذافی نے خبردار کیا ہے کہ وہ ایک ’طویل جنگ‘ کے لیے تیار ہیں اور انہوں نے اپنے حامیوں سے ملک پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف گوریلا جنگ شروع کرنے کو کہا تھا۔

معمر قذافی کہاں ہیں یہ کوئی نہیں جانتا تاہم جمعرات کو عرب ذرائع ابلاغ نے ان کے تین پیغامات نشر کیے تھے۔

اسی بارے میں