روس، شام پر پابندیاں عائد کرنے کی مذمت

فائل فوٹو، تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شام میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران مزید ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں

روس نے یورپی اتحاد کی جانب سے شام سے تیل کی درآمد پر پابندی لگانے کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔

یورپی اتحاد نے جمعہ کو شامی صدر بشارالاسد کے خلاف جاری مظاہروں کے تناظر میں شام سے تیل کی درآمد پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لووروف کا کہنا ہے کہ شام پر پابندیاں عائد کرنے سے’اچھے نتائج برآمد نہیں ہونگے۔‘

دریں اثناء شام سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق حکومت مخالف احتجاج میں مزید چودہ مظاہرین ہلاک ہو گئے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق تاجکستان کے دارالحکومت دوشبنے میں ایک اجلاس کے موقع پر روسی وزیر خارجہ نے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ ہم یکطرفہ پابندیوں کے خلاف ہیں، یہ بربادی شراکت داری کو کسی بحران کی جانب لے جائے گی۔‘

واضح رہے کہ شام کی قومی آمدن میں پیٹرولیم مصنوعات کی برآمد سے حاصل ہونے والی آمدن کا تناسب پچیس فیصد ہے جب کہ پچانوے فیصد تیل کے خریدار یورپی اتحاد کے ممالک ہیں۔

واضح رہے کہ جمعہ کو اٹلی کے علاوہ یورپی اتحاد نے شام سے تیل درآمد کرنے پر پابندی لگائی تھی اور اس کا نفاذ فوری طور کر دیا گیا تھا۔

برطانوی حکام کے مطابق پابندی لگانے کا مقصد شامی حکومت کی جانب سے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کے حوالے سے دباؤ ڈالنا ہے۔

یورپی اتحاد نے مزید چار شامی اہلکاروں اور تین گروپوں پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں اور ان کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔

حکام کے مطابق’ شام میں تشدد ہر صورت میں بند ہونا چاہیے اور صدر کو اقتدار سے الگ ہو جانا چاہیے۔‘

اس سے پہلے امریکہ مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر شام سے تیل کی درآمد منسوخ کر چکا ہے۔

دریں اثناء شام میں جمعہ کو حکومت مخالف مظاہروں میں مزید چودہ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

حزب مخالف کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ دارالحکومت دمشق کے مضافات میں سات، حمص شہر کے مرکز میں چار اور دیر الزور میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں وسط مارچ سے شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں میں اب تک بائیس سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔