نوجوانوں میں فالج کے مرض میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فالج کے مریضوں میں ہائی بلڈ پریشر، شوگر اور مٹاپے کی مشترکہ علامات پائی گئی ہیں

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ امریکہ میں بچوں اور نوجوانوں میں فالج کے مرض میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس کی بڑی وجہ صحت مند طرزِ زندگی کا نہ ہونا ہے۔

سائنسدانوں نے سنہ انیس سو پچانوے سے سنہ دو ہزار آٹھ کے درمیان بیماریوں کی روک تھام کے امریکی سینٹرز میں موجود اسی لاکھ افراد کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔

محقیقین کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں کے نیورولوجی ڈیپارٹمنٹ کے ریکارڈ کے مطابق گزشتہ دس سال سے بھی کم عرصے میں پانچ سے چوالیس سال کی عمر کے افراد میں سڑوک یا فالج کے مرض میں اضافہ ہوا۔

ان کے مطابق فالج کے مریضوں میں ہائی بلڈ پریشر، شوگر اور مٹاپے کی مشترکہ علامات پائی گئی ہیں۔

برطانیہ کی سڑوک ایسوسی ایشن سے وابستہ ڈاکٹر لورنا لےورڈ کا کہنا ہے کہ فالج عام طور پر عمر رسیدہ افراد میں ہوتا ہے لیکن کام کرنے والے ایک چوتھائی افراد میں اس کا زیادہ اثر ہوتا ہے۔ ان کے مطابق برطانیہ میں ہر سال چار سو بچے فالج سے متاثر ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فالج کی چند بڑی وجوہات میں ہائی بلڈ پریشر، موٹاپا، شوگر، کم خوراک اور سگریٹ نوشی بھی شامل ہے۔

محقیقین کا کہنا ہے کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگوں کو بتایا جائے کہ فالج سے نوجوان افراد زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور اس سے محفوظ رہنے کے لیے ہمیں صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کے ساتھ ساتھ باقاعدگی سے بلڈ پریشر بھی چیک کروانا چاہیے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کے کسی حصے میں دورانِ خون کے رک جانے سے فالج ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے دماغ سے خون رسنا شروع ہو جاتا ہے۔

ان کے مطابق پانچ سے چودہ سال کے نوجوانوں میں ایشمک فالج’دماغ میں خون کی گردش رک جانے کے سبب ہونے والا فالج‘ کی شرح اکتیس فیصد تک بڑھ چکی ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق پندرہ سے چونتیس سال کے افراد میں یہ شرح تیس فیصد جبکہ پینتیس سے چوالیس سال کے افراد میں یہ شرح سینتیس فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

محقیقین کے مطابق ہر عمر کے گروپ میں خواتین کے مقابلے میں مردوں میں فالج کی بیماری زیادہ پائی جاتی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق ہائی بلڈ پریشر، موٹاپا اور تمباکو کے زیادہ استعمال نے فالج کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نوجوانوں میں فالج کی بڑھتی ہوئی بیماری پر قابو پانے کے لیے صحت کے شعبے میں انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں