ایم آئی سکس پر الزامات،تحقیقات کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC News 24
Image caption ’یہ اہم ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی کسی بھی غلط کام کی نشاندہی کرے‘

برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس کے مشتبہ شدت پسندوں کو تفتیش کی غرض سے لیبیائی حکام کے حوالے کرنے کے عمل میں ملوث ہونے کے الزامات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیئیں۔

وزیراعظم کی جانب سے یہ بیان امریکی گروپ ہیومن رائٹس واچ کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے جس کے مطابق اسے امریکہ پر گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد امریکی اور برطانوی خفیہ اداروں اور قذافی حکومت کے گہرے تعلقات کے بارے میں دستاویزات ملی ہیں۔

لیبیا کے ایک سابق وزیرِ خارجہ نے بھی کہا ہے کہ قذافی حکومت اور ایم آئی سکس کا تعاون چھ ماہ قبل تک بھی جاری تھا جبکہ ایک قذافی مخالف سینیئر کمانڈر نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ سنہ 2004 میں لیبیا میں ان کی گرفتاری اور انہیں ایذائیں دیے جانے پر معافی مانگیں۔

پہلے سے برطانوی سکیورٹی ایجنسیوں کے تشدد میں ملوث ہونے کے الزامات کی تحقیقات کرنے والے انکوائری کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ ان تازہ الزامات کی بھی تحقیقات کرے گا۔

ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ غیرجانبدار تحقیقات سے برطانوی اور لیبیائی خفیہ اداروں کے گہرے تعلقات کے بارے میں الزامات کی حقیقت سامنے آ سکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اہم ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی کسی بھی غلط کام کی نشاندہی کرے اور برطانوی وقار پر لگنے والے کسی بھی داغ کو صاف کرے۔

اس سے قبل پیر کی صبح لیبیا کی صورتحال پر پارلیمان میں بیان دیتے ہوئے برطانوی وزیراعظم نے کہا تھا کہ ’ہم نے ریٹائرڈ جج سر پیٹر گبسن سے کہا ہے کہ وہ بیرونِ ملک مشتبہ دہشتگردوں کو حراست میں رکھنے اور اس دوران ان سے روا رکھے گئے سلوک کا جائزہ لیں اور تحقیقاتی کمیٹی نے کہا ہے کہ وہ ان الزامات کا بہت احتیاط سے جائزہ لے گی‘۔

برطانوی حزبِ اختلاف کے رہنما ایڈ ملی بینڈ کا بھی کہنا تھا کہ وہ اس معاملے میں وزیراعظم سے اتفاق کرتے ہیں کہ ’گبسن انکوائری ان الزامات کی تہہ تک پہنچے‘۔

کرنل قذافی کے دور میں لیبیا کے وزیرِ خارجہ رہنے والے عبدالتی عبیدی کا جو اب حراست میں ہیں، کہنا ہے کہ طرابلس میں ایم آئی سکس کے آپریشنز ملک میں انقلاب کے آغاز سے پہلے تک جاری تھے۔

ان کے مطابق لیبیائی خفیہ ادارے کے سابق سربراہ موسٰی کوسا کے دور میں برطانوی اور لیبیائی خفیہ اداروں کا تعلق بہت گہرا تھا اور اب ایسا نہیں ہے۔

دریں اثناء ایک قذافی مخالف سینیئر کمانڈر عبدالحکیم بہلاج نے امریکہ اور برطانیہ سے سنہ 2004 میں لیبیا میں ان کی گرفتاری اور انہیں ایذائیں دیے جانے پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔

عبدالحکیم بہلاج کے معاملے میں امریکہ اور برطانیہ کے کردار کا انکشاف طرابلس میں سرکاری عمارتوں اور جیلوں پر قذافی مخالف باغیوں کے کنٹرول کے بعد ملنے والی دستاویز عام ہونے کے بعد ہوا۔

عبدالحکیم پر اس وقت دہشت گردی کا الزامات تھے اور اب وہ طرابلس میں لیبیا کی سکیورٹی فورسز کے انچارج ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں بنکاک میں گرفتار کر کے ایذائیں دی گئی تھیں اور سی آئی اے اور ایم آئی سکس نے انہیں لیبیائی حکومت کے حوالے کیا تھا اور یہ بات ان دستاویز سے ثابت ہوتی ہے۔

اسی بارے میں