جنسی حملے کا الزام، پانچ فوجی واپس طلب

لاطینی امریکی ملک یوراگوئے نے جنسی حملے کے الزامات کے بعد افریقی ملک ہیٹی میں تعینات اپنے پانچ فوجیوں کو واپس طلب کر لیا ہے۔

یہ پانچوں فوجی ہیٹی میں تعینات اقوامِ متحدہ کی امن فوج کا حصہ ہیں اور انہیں ایک لڑکے پر جنسی حملے میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔

جنسی حملے کا واقعہ مبینہ طور پر اقوامِ متحدہ کے مرکز میں پیش آیا تھا اور اس واقعے پر ہیٹی میں یوراگوئے کی بحریہ کے دستے کے سربراہ کو بھی ہٹا دیا گیا ہے۔

لڑکے پر جنسی حملے کا معاملہ اس وقت سامنے آیا تھا جب انٹرنیٹ پر شائع کی جانے والی ایک ویڈیو میں یہ عمل دکھایا گیا۔

ہیٹی میں اقوامِ متحدہ کے مشن کے سربراہ اور ہیٹی کے حکام نے اس واقعے کی الگ الگ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مشن کی ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ یوراگوئے سے تعلق رکھنے والے ایک تفتیش کار کو ہیٹی بھجوا دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اقوامِ متحدہ کی امن فوج میں شامل فوجیوں پر اس قسم کے الزامات لگے ہوں۔

ماضی میں کانگو اور آئیوری کوسٹ جیسے ممالک میں تعینات امن فوج پر بڑے پیمانے پر جنسی زیادتیوں اور استحصال کے الزامات لگائے گئے تھے اور اس سلسلے میں اقوامِ متحدہ نے باقاعدہ تحقیقات بھی کیں تھیں۔