کینیا: پائپ لائن میں دھماکہ، سو ہلاک

کینیا: دھماکے میں جلنے والے لوگوں کو ہسپتال لیجایا جا رہا ہے تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فائر بریگیڈ کا عملہ آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے

پولیس کا کہنا ہے کہ کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں ایک پیٹرول پائب لائن میں دھماکے اور آگ سے سو سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ دھماکہ شہر کے صنعتی علاقے میں ہوا ہے۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ فائر بریگیڈ کا عملہ آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے۔

پیٹرول کی یہ پائپ لائن گنجان آبادی والی کچی آبادی سے گذر کر نیروبی سٹی سینٹر اور ہوائی اڈے تک جاتی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ 80 لوگوں کو ہسپتال لیجایا گیا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار حسن لالی نے ہولناک منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ جگہ جگہ لوگوں کی جھلسی ہوئی لاشیں بکھری پڑی تھیں اور کچھ اس حد تک جل چکی تھیں کہ صرف ڈھانچے ہی رہ گئے تھے۔

اطلاعات ہیں کہ یہ آگ سگریٹ کے ٹکڑے سے شروع ہوئی تھی جو غالباً کسی نے اس گٹر میں پھینک دیا جو پیٹرول سے بھرا ہوا تھا۔

پولیس کے ترجمان چارلس اوین نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ کینیا کی پائپ لائین کمپنی کے ایک ڈپو میں ایک ٹینک سے پیٹرول لیک کر رہا تھا۔

علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ جب پیٹرول لیک ہونا شروع ہوا تو پیٹرول لینے کے لیے لوگوں کی بھیڑ وہاں جمع ہو گئی ایک عینی شاہد جوزف میگو کا کہنا ہے کہ اس دوران ایک بڑا دھماکہ ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک بہت بڑا آگ کا گولہ اور اس کے بعد دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دیا۔

جوزف میگو نے بتایا کہ دھماکے کے ساتھ ہی لوگوں کے جسم کے اعضاء بھی فضا میں اڑتے دکھائی دیے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً ایک ہزار فٹ تک لوگوں کی جھلسی لاشیں بکھری پڑی تھیں۔

نزدیک کے ایک دریا میں بھی لوگوں کی لاشیں تیرتی دکھائی دیں۔ غالباً کچھ لوگ اپنے جسم پر لگی آگ کو بجھانے کے لیے دریا میں کود پڑے تھے۔

جس کچی بستی میں یہ دھماکہ ہوا وہاں زیادہ تر گھروں کی چھتیں ٹین کی تھیں۔