قذافی کو سیاسی پناہ کا فیصلہ بعد میں: نائجر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لیبیا کے بعض اعلٰی سطح کے روپوش رہنماء نائجر پہنچے ہیں: محمد بازوم

لیبیا کے پڑوسی ملک نائجر نے کہا ہے کہ کرنل قذافی کے مستقبل کا فیصلہ اس وقت کیا جائے گا جب وہ سیاسی پناہ کی خاطر اس کی حدود میں داخل ہوں گے۔

نائجیر کے وزیرِ خارجہ محمد بازوم نے بی بی سی کو بتایا کہ کرنل قذافی کو ملک میں داخلے کی اجازت دینے یا بین الاقوامی فوجداری عدالت کے حوالے کرنے کے بارے میں فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔

دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ پچھلے چند دنوں میں لیبیا کے بعض اعلٰی سطح کے روپوش رہنماء نائجر پہنچے ہیں اور یہ بھی قیاس کیا جارہا ہے کہ کرنل قذافی بھی جان بچانے کی خاطر نائجر میں داخل ہوسکتے ہیں۔

لیبیا کی قومی عبوری کونسل نے نائجر سے کہا ہے کہ وہ کرنل قذافی کو اپنے ملک میں داخلے کی اجازت نہ دے۔

نائجربین الاقوامی فوجداری عدالت کو تسلیم کرتا ہے جو لیبیا کے رہنماء کرنل قذافی، ان کے بیٹے سیف الاسلام اور انٹیلیجنس کے سابق سربراہ عبدااللہ سنوسی کو گرفتار کرنا چاہتی ہے۔

نائجر کے وزیرِِخارجہ محمد بازوم نے بدھ کو بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں تسلیم کیا ہے کہ لیبیا کے بعض اعلٰی سطح کے روپوش رہنماء نائجر پہنچے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کرنل قذافی اور ان کا کوئی بھی بیٹا نائجر میں موجود نہیں اور اس حوالے سے میڈیا میں آنے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ لیبیا کے رہنماء کرنل قذافی کی نائجر میں موجودگی کی کوئی اطلاع نہیں ہے اور یہ بات بھی سچ نہیں ہے کہ کرنل قذافی نے نائجر میں داخل ہونے کی کوشش کی یا وہ نائجر پہنچے ہیں۔

لیبیا کے پناہ گزینوں کے حوالے سے محمد بازوم کا کہنا تھا ’ہم پناہ گزینوں کو بتا چکے ہیں کہ انہیں انسانی ہمدری کی بنیاد پر نائجر میں رہنے کی اجازت ہے تاہم انہیں بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنا ہو گا۔‘

نائجر کے وزیرِخارجہ کے مطابق لیبیا سے تین کاروان نائجر میں داخل ہوئے اور ان کے ہمراہ کرنل قذافی کا کوئی بیٹا سفر نہیں کر رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ نائجر کا لیبیا کے ساتھ سرحد بند کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

نائجر میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا کہ اس صورتحال نے نائجر کو مشکل میں ڈال دیا ہے کیونکہ اس نے بڑی خوشی سے باغیوں کی کونسل کو لیبیا کی جائز حکومت تسلیم کیا لیکن ساتھ ہی وہ کرنل قذافی کو بھی مکمل طور پر نہیں چھوڑ سکتا جن کے ساتھ اس کے رہنماؤں کا پرانا اور گہرا تعلق رہا ہے۔

دوسری جانب نائجر میں حکام کے مطابق کرنل قذافی کے سکیورٹی چیف منصور دا ہفتے کے آخر یا پیر کو نائجر کے دارالحکومت نیامے پہنچے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ لیبیا سے نائجر پہنچنے والے افراد کی تعداد بیس سے کم ہے۔

دریں اثناء لیبیا کے باغیوں کی قومی عبوری کونسل کے ایک سینئر رہنماء فاتح باجا کا مطالبہ ہے کہ نائجر لیبیا سے آنے والے کرنل قذافی کے کسی بھی ساتھی کو لیبیا واپس بھیج دے۔

انہوں نے کہا کہ کرنل قذافی کے حامیوں کے ایک قافلے نے نائجر کی سرحد عبور کی ہے اور اس قافلے میں شامل گاڑیوں میں سونا اور کرنسی بھی موجود ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان وکٹوریا نولینڈ نے لیبیا کے ہمسایہ ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کی مکمل حفاظت کریں۔

انہوں نے کہا ’ہم نائجر کے حکام سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کرنل قذافی کی حکومت کے ان ارکان کو حراست میں لے جن کے خلاف عدالتی کارروائی ہو سکتی ہے‘۔

اسی بارے میں