’امدادی سامان ترکی کی نگرانی میں جائے گا‘

Image caption ترکی امدادی سامان غزہ لے جانے والے اپنے بحری جہازوں کی حفاظت کرے گا: طیب اردگان

ترکی کے وزیراعظم طیب اردگان نے کہا ہے کہ آئندہ امدادی سامان لے کر غزہ جانے والے بحری جہاز کو ان کا ملک اپنی نگرانی میں لے کر جائے گا۔

الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے طیب اردگان نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے مشرقی بحیرۂ روم میں قدرتی ذرائع کے یکطرفہ استحصال کے خلاف ترکی اقدامات کرے گا۔

ترکی اور اسرائیل کے تعلقات میں اس وقت کشیدگی آئی تھی جب گزشتہ برس مئی میں غزہ جانے والے ایک امدادی بحری جہاز پر اسرائیل نے حملہ کیا تھا جس میں ترکی کے نو باشندے ہلاک ہوئے تھے۔

ترکی اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب ترکی نے اسرائیل سے معافی طلب کی جس پر اسرائیل نے معافی مانگنے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ مؤقف اختیار کیا کہ اس نے یہ کارروائی اپنے دفاع میں کی تھی۔

ترکی اپنے ملک سے اسرائیلی سفارتکار کو پہلے ہی بے دخل کرچکا ہے جبکہ اسرائیل کے ساتھ فوجی تعلقات کو بھی منقطع کرچکا ہے۔ ترکی کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کے محاصرے کو عالمی جرائم کی عدالت میں چیلنج کرے گا۔

طیب اردگان نے کہا ’ترکی کے جنگی جہازوں کو اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ امدادی سامان لے جانے والے اپنے بحری جہازوں کی حفاظت کریں۔‘

ان کے بقول ’آج کے بعد ہم اسرائیل کو ہرگز اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ان جہازوں پر حملہ کرے جیسا کہ فریڈم فلوٹیلا کے ساتھ ہوا۔‘

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ قبرص کی حکومت کی جانب سے مشرقی بحیرۂ روم میں گیس کی تلاش پر ترکی احتجاج کرتا رہا ہے کیونکہ وہ ان پانیوں کو قبرص کی حدود میں تسلیم نہیں کرتا اور یہ اس کے ساتھ پچاس سالہ پرانا تنازع ہے جبکہ اسرائیل اس علاقے کو قبرص کی حدود میں تسلیم کرچکا ہے اور امید کرتا ہے کہ مستقبل میں اسے قدرتی گیس کی فراہمی ممکن ہوسکے گی۔

ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کے بعد اب یہ معاملہ گمبھیر ہوچکا ہے اور یہ کسی بھی وقت کوئی بھی خطرناک موڑ لے سکتا ہے۔

طیب اردگان کا کہنا ہے ’آپ جانتے ہیں کہ اسرائیل نے یہ اعلان کرنا شروع کردیا ہے کہ وہ بحیرۂ روم میں مخصوص معاشی علاقوں میں کارروائی کا حق رکھتا ہے۔‘

’آپ دیکھیں گے کہ وہ اس حق کا دعویدار نہیں رہے گا کیونکہ ترکی جو شمالی قبرص کی جمہوریہ ترکی کا ضمانتی ہے اس علاقے میں اقدامات کرے گا جو فیصلہ کن ہوں گے اور یہ اس کا حق ہے کہ مشرقی بحیرۂ روم میں بین الاقوامی پانیوں کی نگرانی کرے۔‘

اسی بارے میں