امریکہ میں نائن الیون کی دس سالہ تقریبات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دس سالہ سرکاری تقریب نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے مقام پر منعقد ہو گی۔

امریکہ میں نائن الیون کے حملوں کی دس سالہ تقریبات منعقد کی گئیں جبکہ القاعدہ کی جانب سے ممکنہ دہشت گردی کے پیشِ نظر سخت سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے تھے۔

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے مطابق القاعدہ کی جانب سے ممکنہ دہشت گردی کا واقعہ رونماء ہوسکتا ہے۔ تاہم امریکی صدر براک اوباما نے کہا کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف انتہائی چوکس ہے۔

نائن الیون کے ایک دہائی بعد

افغانستان میں موجود امریکہ کے سفارتخانے میں اتوار کی صبح تقریبات شروع ہوئیں۔ سفارتخانے میں امریکی پرچم کو نائن الیون کے واقعہ میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں سرنگوں کیا گیا۔

گیارہ ستمبر دو ہزار ایک میں امریکہ کے شہر نیویارک، واشنگٹن ڈی سی اور پینسیلوینیا میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں تین ہزار کے قریب لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔

اس کے لیے چار مسافر جہازوں کو ہائی جیک کیا گیا تھا جن میں سے دو کو نیویاک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارت سے ٹکرا دیا گیا تھا جس سے دونوں عمارتیں زمین بوس ہو گئیں تھیں۔ ایک جہاز پینٹاگون سے ٹکرا کر تباہ ہوا تھا جبکہ چوتھا پینسیلویینا میں جا گرا تھا۔

ان تینوں جگہوں پر دعائیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا جبکہ سرکاری تقریب نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے مقام پر منعقد ہوئیں۔

ٹھیک اس وقت خاموشی اختیار کی گئی جب دو مسافر بردار طیارے ورلڈ ٹریڈ سینٹر یا ٹوئن ٹاورز سے ٹکرائے تھے، تیسرا پینٹاگون پر گرا تھا اور چوتھا پینسیلونیا میں ہائی جیکرز اور مسافروں کے درمیان تصادم کے بعد گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکہ میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

صدر اوباما کا کہنا ہے کہ حملوں کی دسویں برسی کے موقع پر امریکہ دہشت گردی کے خلاف چوکس رہے گا۔

اتوار کو دسویں برسی کے دن ٹوئن ٹاورز کے مقام پر بنائی گئی یادگار ’نیویارک نیشنل ستمبر گیارہ‘ کی رونمائی کی گئی۔

امریکی صدر براک اوباما نے تینوں جگہوں پر منعقد ہونے والی دعائیہ تقریبات میں شرکت کی جبکہ نیویارک میں منعقد ہونے والی تقریب میں سابق صدر جارج بش بھی ان کے ساتھ شریک تھے۔

القاعدہ کی جانب سے دہشت گردی کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔

اس سے پہلے سنیچر کو قوم سے ہفتہ وار خطاب کے موقع پر امریکی صدر براک اوباما نے فوجی اہلکاروں، انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں، داخلی سکیورٹی کے ذمہ داران کی انتھک محنت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہے کہ آج امریکہ مضبوط ہے اور القاعدہ شکست کے راستے پر ہے۔

سابق امریکی صدر جارج بش نے نیشنل جیوگرافکس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ’اس دن رونماء ہونے والے واقعات نے ان کی صدارت کو ڈرامائی طور پر تبدیل کر دیا۔‘

’گیارہ ستمبر ہماری تاریخ کا ایک یادگار دن ہے، ایک انتہائی اہم دن ہے اور یقیناً اس نے میری صدارت کی نوعیت کو تبدیل کر کے رکھ دیا، میں بنیادی طور پر اندرونی مسائل پر توجہ دینے والے صدر سے حالتِ جنگ کا صدر بن گیا۔ ایک ایسا صدر جس کی میں نے کبھی توقع نہیں تھی اور نہ ہی ایسا بننا چاہتا تھا۔‘

اسی بارے میں