نائن الیون: اختتامی تقریب سے براک اوباما کا خطاب

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امریکی صدر نائن الیون کی دس سالہ تقریبات کے اختتام پر خطاب کررہے تھے۔

امریکی صدر براک اوباما نے نائن الیون کی دس سالہ تقریبات کے موقع پر اپنے ہم وطنوں سے کہا ہے کہ انہیں نائن الیون کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کو یاد رکھنا چاہیے تاہم وہ مستقبل کے لیے بہت پرامید رہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان دس برسوں نے امریکیوں کے عزم کو ظاہر کیا ہے کہ وہ کس طرح اپنی زندگیوں کا دفاع کر سکتے ہیں۔

امریکہ میں نائن الیون کی دس سالہ تقریبات

براک اوباما واشنگٹن کے کینیڈی سینٹر میں ایک میوزیکل کنسرٹ کے موقع پر نائن الیون کی دس سالہ تقریبات کے اختتام پر خطاب کررہے تھے۔

اس سے قبل انہوں نے نیویارک، پینٹاگون، اور پینسلوینیا میں ہونے والی یادگاری تقریبات میں شرکت کی۔

امریکی صدر نے کہا کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد سے امریکی بہت تبدیل ہوچکے ہیں۔

’ہم نے اس دوران جنگ، معاشی بحران، بحث و مباحثوں اور سیاسی تفریق دیکھی ہیں۔ ہم ان کو واپس نہیں لا سکتے جو اپنی جانوں سے گئے یا ان امریکیوں کو جنہوں نے اس کے نتیجے میں لڑی جانے والی جنگ میں اپنی جانیں قربان کیں۔ مگر ہاں، یہ بات ضرور یاد رکھنے کی ہے کہ کیا تبدیل نہیں ہوا۔‘

ان کے بقول ’ہمارا کردار من حیث القوم تبدیل نہیں ہوا ہے۔ امریکہ پر ہمارا یقین اور یہ کہ ہر شخص، مرد یا عورت کو یہ آزادی کہ وہ اپنا فیصلہ خود کر سکے، کیونکہ تمام لوگ برابر تخلیق کیے گئے ہیں اور انہیں اپنے لیے فیصلہ کرنے کی یکساں آزادی حاصل ہے، اور ہمارا یہ یقین امتحانوں اور آزمائشوں سے گزر کر مزید پختہ ہوا ہے۔‘

انہوں نے نائن الیون کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں اور اس میں زندہ بچ جانے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے ان امریکیوں کو بھی سراہا جو نائن الیون کے بعد سے محاذ جنگ پر گئے۔ انہوں نے کہا ’ان افراد نے واضح کردیا ہے کہ جو ہمیں نقصان پہنچائے گا وہ دنیا میں کہیں بھی انصاف سے بچ نہیں سکے گا۔‘

اس سے قبل امریکہ میں نائن الیون کے حملوں کی دس سالہ تقریبات منعقد کی گئیں جبکہ القاعدہ کی جانب سے ممکنہ دہشت گردی کے پیشِ نظر سخت سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے تھے۔

گیارہ ستمبر دو ہزار ایک میں امریکہ کے شہر نیویارک، واشنگٹن ڈی سی اور پینسیلوینیا میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں تین ہزار کے قریب لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امریکی صدر نے کہا کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد سے امریکی بہت تبدیل ہوچکے ہیں۔

اس کے لیے چار مسافر جہازوں کو ہائی جیک کیا گیا تھا جن میں سے دو کو نیویاک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارت سے ٹکرا دیا گیا تھا جس سے دونوں عمارتیں زمین بوس ہو گئیں تھیں۔ ایک جہاز پینٹاگون سے ٹکرا کر تباہ ہوا تھا جبکہ چوتھا پینسیلویینا میں جا گرا تھا۔

ان تینوں جگہوں پر دعائیہ تقریبات کا انعقاد کیا گیا جبکہ سرکاری تقریب نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے مقام پر منعقد ہوئیں۔

ٹھیک اس وقت خاموشی اختیار کی گئی جب دو مسافر بردار طیارے ورلڈ ٹریڈ سینٹر یا ٹوئن ٹاورز سے ٹکرائے تھے، تیسرا پینٹاگون پر گرا تھا اور چوتھا پینسیلونیا میں ہائی جیکرز اور مسافروں کے درمیان تصادم کے بعد گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

اتوار کو دسویں برسی کے دن ٹوئن ٹاورز کے مقام پر بنائی گئی یادگار ’نیویارک نیشنل ستمبر گیارہ‘ کی رونمائی کی گئی۔

اسی بارے میں