کابل حملہ: تمام شدت پسند ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption طالبان جنگجوؤں نے منگل کی دوپہر شہر کے مرکز میں واقع سفارتی علاقے کو نشانہ بنایا اور ان کے خلاف کارروائی بدھ کی صبح تک جاری رہی

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں حکام کے مطابق افغان اور بین الاقوامی سکیورٹی فورسز نے امریکی سفارتخانے، نیٹو ہیڈکوارٹر اور افغان پولیس کے دفاتر پر حملہ کرنے والے تمام جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً انیس گھنٹے تک جاری رہنے والی اس کارروائی میں گیارہ شہری، چار پولیس اہلکار اور دس حملہ آور ہلاک ہوئے ہیں۔

نیٹو اور امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ان کا کوئی اہلکار اس کارروائی میں ہلاک نہیں ہوا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ کابل میں جس کثیر المنزلہ عمارت پر مسلح شدت پسندوں نے قبضہ کر رکھا تھا اس کو کلئیر کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب افغانستان میں امریکی سفیر کروکر نے کہا ’یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ صرف چھ سے سات راکٹ سفارتخانے کے احاطے میں گرے۔‘

مسلح شدت پسندوں کے خلاف کارروائی مکمل ہونے سے تھوڑی دیر پہلے بی بی سی کے نامہ نگار بلال سروری کا کہنا تھا کہ عمارت کی دسویں منزل پر افغان سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا ہے جب کہ دو شدت پسند پہلے ہی ہلاک ہو چکے ہیں۔

شدت پسندوں کی جانب سے یہ حملہ ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب امریکہ اور دوسری غیر ملکی افواج افغانستان سے انخلاء شروع کر رہی ہیں۔

دوسری جانب کابل میں موجود نیٹو اور امریکی سفارتخانے کے مطابق اس کارروائی میں ان کا سٹاف متاثر نہیں ہوا۔

اگرچہ افغان حکام نے اس حملے کا ذمہ دار حقانی نیٹ ورک کو قرار دیا ہے تاہم طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

افغان افواج نے منگل کی رات شروع ہوتے ہی کابل کی کثیرالمنزلہ عمارت میں کارروائی جاری رکھی اور شدت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔

افغان افواج کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ انہوں نے دو شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے لیکن عمارت کی اوپر والی منزل میں اب بھی دو افراد موجود ہیں۔

ترجمان کے مطابق امریکی اور افغان آرمی کے ایم آئی 35 ہیلی کاپٹروں نے عمارت کے اوپر پروازیں کیں اور حملہ آوروں پر فائرنگ کی۔

افغان انٹیلیجنس حکام کا کہنا ہے کہ وہ عمارت کی نچلی منزلوں سے اس حملے کے بارے میں ثبوت اکھٹے کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ طالبان جنگجوؤں نے منگل کی دوپہر شہر کے مرکز میں واقع سفارتی علاقے کو نشانہ بنایا اور علاقے سے دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئی تھیں۔

اطلاعات کے مطابق اس حملے میں کابل کے عبدالحق چوراہے پر مقامی اور غیر ملکی اداروں کے دفاتر کو نشانہ بنایا گیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کابل میں زیرِ تعیر کثیرالمنزلہ عمارت میں شدت پسندوں کے داخلے سے پہلے دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں۔

ان کے مطابق پانچ شدت پسندوں نے امریکی سفارتخانے پر مشین گنوں اور راکٹوں سے حملہ کیا۔

عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ کابل کے وزیر اکبر خان کے علاقے میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں۔

اسی بارے میں