’یمن خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے‘

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ REUTER
Image caption یمن میں سیاسی اصلاحات کی فوری ضرورت ہے

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اگر یمن میں پائی جانے والی سیاسی بے چینی کو جلد حل نہ کیا گیا تو ملک خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس کونسل کا کہنا کہ حکومت کے خلاف مظاہروں کے دوران سینکڑوں شہری ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔

ادارے کے مطابق سکیورٹی فورسز نے صدر عبداللہ صالح کے خلاف پرامن مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف بہت زیادہ اور بےجا طاقت کا استعمال کیا ہے۔

اس سے متعلق اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی آزادانہ تحقیق کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

تیونس اور مصر جیسے عرب ممالک میں حکومت مخالف مظاہروں کی تحریک سے یمن میں بھی عبداللہ صالح کے تیس سالہ اقتدار سے چھٹکارے کے لیے جنوری میں مظاہرے شروع ہوئے تھے۔

ان مظاہروں کو دبانے کے لیے سکیورٹی فورسز نے بہت سی کارروائیاں کی تھیں اور بیشتر میں سنائپرز یا نشانچیوں کی فائرنگ سے احتجاج کرنے والے افراد ہلاک ہوئے تھے۔

دارالحکومت صنعاء میں اسی طرح کے ایک جمہوریت نواز مظاہرے کے دوران فائرنگ میں پچاس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

کئی ماہ تک جاری رہنے والے ان واقعات کے سبب اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے اپنی ایک تین رکنی تفتیشی ٹیم یمن بھیجی تھی۔

ٹیم نے جائزے کے مطابق ملک بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوئی ہیں اور لوگوں کے ساتھ ظلم و زیادتیاں کی گئی ہیں۔

اقوام متحد کی تفتیشی ٹیم کے سربراہ ہینی میگالی نے کہا کہ’واضح طور پر ملک خانہ جنگي کی دہانے پر لڑکھڑا رہا ہے۔ لوگوں میں مایوسی بڑھتی جا رہی ہے اور امید کی کوئی کرن نظر نہیں آ رہی کیونکہ کوئي بھی قدم آگے بڑھانے کو تیار نہیں ہے۔‘

اس رپورٹ میں کہا کیا ہے کہ جن افراد کو ہلاک، زخمی یا تشدد کا نشانہ بنایا گیا ان میں بچے بھی شامل ہیں۔

رپورٹ میں یمن کی حکومت سے کہا گيا ہے کہ وہ سکیورٹی فورسز کے ذریعے شہریوں پر حملے بند کرانے کے فوری اقدامات کرے۔

لیکن اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں اس کے لیے حکومت مخالف مسلح قبائیلیوں اور مذہبی گروپوں کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا ہے جنہوں نے موقع سے فائدہ اٹھا کر شہریوں کو نشانہ بنایا۔

یمن کے صدر عبداللہ صالح اب بھی سعودی عرب میں ہیں جہاں ایک راکٹ سے زخمی ہونے کے بعد سے ان کا علاج چل رہا ہے۔

امریکہ اور سعودی عرب کی مخالفت کے باوجود صالح یمن واپس آنا چاہتے ہیں۔ لیکن ان ملکوں کو خدشہ ہے کہ اگر یہ تنازع دوبارہ شروع ہوا تو پھر القاعدہ کے عناصر ملک کے اقتدار پر اثر اندا ز ہو سکتے ہیں۔

اسی بارے میں