قذافی مخالف جنگجو سِرت میں داخل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

لیبیا میں قومی عبوری کونسل کا کہنا ہے کہ ان کے جنگجو ساحلی شہر سِرت میں داخل ہو گئے ہیں۔

لیبیا میں سِرت ان چند شہروں میں شامل ہے جہاں پر کرنل قذافی کے حامیوں کا کنٹرول ہے۔

قومی عبوری کونسل کے ترجمان علی گلیوان کا کہنا ہے کہ ان کے جنگجوؤں نے سِرت شہر کے جنوبی اور مشرقی حصے میں دفاعی حصار کو توڑ دیا ہے تاہم اب بھی شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ جنگجو شہر کے مرکز سے اب دس کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہیں۔

’جنگجوؤں کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے اور اس وجہ سے چند کلومیٹر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئے ہیں۔‘

عبوری کونسل کے ترجمان علی گلیوان نے امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ جنگجوؤں نے شہر کے مرکز تک پیش قدمی کی تاہم وہاں ان کا سامنا کرنل قذافی کے حامی افواج کے ایک ایلیٹ یونٹ اور سنائپرز یا نشانچیوں سے ہوا ہے۔

دوسری جانب کرنل قذافی کے ترجمان موسیٰ ابراہیم نے شامی ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ہزاروں رضاکار لیبیا کو عبوری کونسل سے آزاد کرانے کے لیے تیار ہیں۔‘

انھوں نے قذافی کے حامی آل رائی ٹی وی چینل سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ’ہزاروں کی تعداد میں نوجوان رضا کار مختلف محاذوں پر تیار بیٹھے ہیں۔‘

’اصل میں ہم مضبوط ہیں، ہماری پاس تمام لیبیا کو آزاد کرانے کے لیے صلاحیت، مقصد اور منصوبے ہیں۔‘

دریں اثناء دارالحکومت طرابلس میں شہریوں نے فرانسیسی صدر اور برطانوی وزیراعظم کا پرجوش اسقتبال کیا۔

دونوں رہنماء کرنل قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد پہلے عالمی رہنما تھے جو طرابلس پہنچے تھے۔

اسی بارے میں