’مشترکہ اپوزیشن کے ارکان کا نام جاری‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شام میں پانچ ماہ سے جاری حکومت مخالف مظاہروں میں بائیس سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں: اقوام متحدہ

شام میں حزب اختلاف کے مختلف گروپوں نے حکومت کے خلاف ایک مشترکہ حزب اختلاف کی تشکیل کے لیے ایک سو چالیس ارکان کا اعلان کر دیا ہے۔

ترکی میں ہونے والے اجلاس کے بعد مشترکہ حزب اختلاف’نیشنل کونسل‘ کے ارکان کا اعلان کیا گیا۔

اس کونسل کا مقصد شامی صدر بشارالاسد کے خلاف جاری احتجاج کو منظم کرنا اور ان مظاہروں کو ایک عوامی شناخت دینا ہے۔

اس کے علاوہ شامی رہنماؤں کے خلاف حزب اختلاف کی پالیسیوں کے حوالے سے معاونت کی جائے گی۔

ترکی میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ اجلاس میں نیشنل کونسل کے ایک سو چالیس ارکان میں سے ستر کے ناموں کا اعلان کیا گیا اور باقی ارکان کا نام اس لیے نہیں لیا گیا کیونکہ ممکنہ طور پر وہ شام میں موجود ہو سکتے ہیں۔

نامہ نگار کے مطابق حزب اختلاف کے گروپ بلآآخر اس بات پر قائل ہو گئے کہ کس طرح شام کی قومی اسمبلی کی ابتدائی شکل ہو سکتی ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ایسا پہلی بار ہے کہ شام کے اندر اور باہر اس کونسل کو حزب اختلاف کے تمام گروپس کی حمایت حاصل ہے اور اب یہ حزب اختلاف کی نمائندگی کرے گی۔

حزب اختلاف کی ایک ترجمان بسماء قدامی نے بتایا کہ’ مشاورتی اجلاس کے پہلے دور کے خاتمے کے بعد، انقلابی نوجوانوں کے گروپس، سیاسی تحریکوں اور شخصیات، سرگرم کارکنوں اور ٹیکنو کریٹس نے شام کی نیشنل کونسل کی تشکیل کا فیصلہ کیا ہے۔

کونسل کے ایک دوسرے رکن یاسر تبارا کا کہنا ہے کہ’ابھی تک صدر کا انتخاب نہیں کیا گیا ہے۔‘

انھوں نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ’یہ ایک جمہوری عمل ہے اور یہ ایک افتتاحی اجلاس تھا۔‘

دوسری جانب بدھ کو شام میں سکیورٹی فورسز نے ملک کے شمال مشرقی حصے میں حزب اختلاف کے کارکنوں کے خلاف ایک نئی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق شام میں پانچ ماہ پہلے شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں میں اب تک بائیس سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ شامی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے سینکڑوں اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

بین الاقوامی برادری شامی صدر بشار الاسد سے مطالبہ کر چکی ہے کہ شہریوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ ترک کیا جائے۔

اسی بارے میں