’برلسکونی ایک رات میں آٹھ خواتین کے ساتھ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اطالوی وزیراعظم اپنے خلاف الزامات سے انکار کرتے ہیں۔

اٹلی کے اخبارات میں ملک کے وزیراعظم سلویو برلسکونی کی فون کالز پر کی گئی بات چیت کا متن شائع کیا گیا ہے جس میں انہوں نے مبینہ طور پر کہا ہے کہ ان کے کمرے کے باہر گیارہ خواتین ان سے ہم بستری کے لیے انتظار کررہی ہیں۔

اطالوی وزیراعظم کی یہ گفتگو ایک مقامی کاروباری شخص گیانپاؤلو تارنتینی کے ساتھ ہوئی ہے جو استغاثہ کے مطابق ایک قحبہ خانہ چلاتا ہے۔

اب تک آٹھ افراد پر اطالوی وزیراعظم کو جسم فروش خواتین فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ جبکہ اطالوی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ان پر اب تک کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا ہے اور وہ ان سرگرمیوں سے لاعلم ہیں۔

تاہم ججوں کا کہنا ہے کہ وہ ان کا گواہ کے طور پر بیان لینا چاہتے ہیں کیونکہ ایسے الزامات سامنے آئے ہیں جن کے مطابق تارنتینی نے جسم فروش خواتین کے معاملے میں خاموشی اختیار کرانے کے لیے ان سے رقم وصول کرنے کی کوشش کی ہے۔

اخبارات میں تازہ متن شائع ہونے کے بعد سلویو برلسکونی ایک بار پھر تنقید کی زد میں ہیں جن پر پہلے ہی یورو کے بحران کے پیشِ نظر اطالوی معیشت کو سنبھالنے کا دباؤ ہے۔

ملک کے جنوبی شہر باری میں استغاثہ کا کہنا ہے کہ آٹھ افراد پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے ملازمت، ٹھیکہ یا کسی قسم کی اعانت ملنے کی امید میں جسم فروش خواتین مہیا کیں۔

ان پر یہ الزامات جمعرات کو عائد کیے گئے تھے۔ جمعہ کے اخبارات میں چند خواتین کی تصاویر بھی شائع کی گئیں جو اس کیس میں مبینہ طور پر ملوث ہیں جبکہ ہفتہ کو فون کالز پر مبنی ہزاروں دستاویزات شائع کی گئیں۔

پہلی جنوری سنہ دو ہزار نو کو کی گئی ایک کال میں سلویو برلسکونی، تارنتینی کو مبینہ طور پربتا رہے ہیں ’گیارہ خواتین میرے دورازے کے باہر منتظر کھڑی ہیں لیکن میں نے صرف آٹھ کے ساتھ کیا کیونکہ آپ سب کو ایک ساتھ نہیں کر سکتے۔‘

حزبِ اختلاف کے اراکین نے کہا ہے کہ جسم فروش خواتین کو پارٹیوں میں پہنچانے کے لیے سرکاری ہوائی جہازوں کے استعمال کی خبروں کے سامنے آنے کے بعد اس معاملے کی باضابطہ تحقیقات ہونی چاہیے۔

تارنتینی پہلے ہی نیپلز میں قید ہیں جہاں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے تفتیش کاروں سے غلط بیانی کرنے کے لیے سلویو برلسکونی سے آٹھ لاکھ یورو طلب کیے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption برلسکونی پر مراکش کی خاتون رقاصہ کو رقم کی ادائیگی کا بھی الزام ہے جب وہ محض سترہ سال کی تھیں۔

اس کیس میں استغاثہ کا کہنا ہے کہ تارنتینی جسم فروش خواتین اور دیگر نوجوان خواتین کو سلویو برلسکونی کے گھر میں ہونے والی تقریبات میں شرکت کے لیے بھرتی کرتے تھے۔

تارنتینی کے ساتھ جرمنی کی ایک اداکارہ سبینا بیگن المعروف کوئن بی کو بھی الزامات کا سامنا ہے۔ ان الزامات میں جسم فروش خواتین کا استحصال، لڑکیوں کو ان کی خدمات کے عوض رقم کی فراہمی، اور انہیں سردینیا اور روم میں واقع برلسکونی کی رہائش گاہوں تک تقریبات میں پہنچانا شامل ہیں۔

سلویو برلسکونی ایسی تقریبات کی میزبانی سے انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایسی تقریبات میں محض طعام کا اہتمام کیا جاتا تھا۔

اطالوی وزیراعظم سلویو برلسکونی کے وکلاء نکولو غیدینی اور پیئرو لونگو کا ایک بیان میں کہنا ہے ’وہ صرف دوستانہ تقریبات ہوتی تھیں۔‘

اٹلی میں اٹھارہ سال یا اس سے زیادہ عمر کی خاتون کو جسم فروشی کے عوض ادائیگی کرنا قانونی طور سے جائز ہے تاہم سلویو برلسکونی کے خلاف میلان میں ایک اور کیس چل رہا ہے جس میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے مراکش کی ایک خاتون رقاصہ کے ساتھ جنسی عمل کرنے کے بعد اس کو رقم کی ادائیگی کی جو اس وقت محض سترہ سال کی تھیں۔

اسی بارے میں