لیبیا: جنگجوؤں کی سرت میں پیش قدمی

لیبیا تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سرت کرنل قذافی کا آبائی علاقہ اور ان کی حامی فوج کا مضبوط گڑھ ہے۔

لیبیا میں عبوری حکومت کی افواج کا کہنا ہے کہ انہوں نے کرنل قذافی کی حامی فوج کے مضبوط گڑھ سرت میں کچھ پیش قدمی کی ہے۔

یہ پیش قدمی بہت سست رفتار ہے اور کرنل قذافی کی حامی فوج شدید مزاحمت کر رہی ہے۔

دوسری جانب طرابلس سے ایک سو چالیس کلومیٹر دور جنوب مشرق میں واقع شہر بنی ولید سے بھی شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں۔

اس سے پہلے لیبیا میں کرنل قذافی کے مخالف جنگجوؤں کو بنی ولید میں اس وقت پیچھے ہٹنا پڑا جب انہیں قذافی کی حامی فوجوں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہوا۔

کرنل قذافی اگست میں دارالحکومت طرابلس پر باغیوں کے قبضے کے بعد سے روپوش ہیں۔

جنگجو جیسے ہی بنی ولید میں داخل ہوئے تو وہ شدید بمباری اور فائرنگ کی لپیٹ میں آگئے۔

اطلاعات ہیں کہ عبوری حکومت کے جنگجو بنی ولید کے مضافات میں دوبارہ منظم ہوئے ہیں۔

خبررساں ادارے رائٹرز کا کہنا ہے کہ شہر کے شمال میں واقع مضافاتی علاقہ سنسان پڑا ہے جبکہ وہاں مکانات پر گولیوں کے نشانات نمایاں ہیں۔ بنی ولید پر دوبارہ چڑھائی اس وقت کی گئی ہے جب شہریوں کو شہر خالی کرنے کے لیے دی جانے والی حتمی تاریخ گزر گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مصطفٰی عبدالجلیل اقوامِ متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کر سکیں گے۔

بنی ولید اور سِرت یہ دو شہر کرنل قذافی کی حامی فوجوں کے آخری گڑھ رہ گئے ہیں۔

دوسری جانب کرنل قذافی کے ترجمان موسیٰ ابراہیم نے شامی ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہزاروں رضاکار لیبیا کو عبوری کونسل سے آزاد کرانے کے لیے تیار ہیں۔‘

انھوں نے قذافی کے حامی ال رائی ٹی وی چینل سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا ’ہزاروں کی تعداد میں نوجوان رضا کار مختلف محاذوں پر تیار بیٹھے ہیں۔‘

’اصل میں ہم مضبوط ہیں، ہمارے پاس تمام لیبیا کو آزاد کرانے کی صلاحیت، مقصد اور منصوبے ہیں۔‘

دریں اثناء اقوامِ متحدہ نے لیبیا کی عبوری کونسل کو رکنیت دے دی ہے۔ رکنیت پر معمولی مخالفت کے بعد اب عبوری حکومت کے وزیراعظم مصطفٰی عبدالجلیل کے لیے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کرنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے جو اگلے ہفتے نیویارک میں ہورہی ہے۔

دوسری جانب اقوامِ متعدہ کی سلامتی کونسل نے لیبیا پر عائد کی جانے والی متعدد پابندیوں کو کم کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ لیبیا کی عبوری حکومت کی حمایت کے لیے ’یو این مشن‘ قائم کیا جائے گا۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے لیبیا کے تیل کی دو بڑی کمپنیوں کے اثاثوں کو بحال کرنے کے علاوہ لیبیا کی کمرشل پروازوں پر عائد پابندی کو بھی ختم کر دیا ہے۔

ادھر امریکی اہلکاروں نے کہا ہے کہ صدر براک اوباما، لیبیا کے عبوری وزیراعظم سے ملاقات کریں گے۔

اس سے قبل ترکی کے رہنماء رجب طیب اردگان نے طرابلس کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ملک کے نئے رہنماؤوں سے ملاقات کی۔

اسی بارے میں