یمن میں جھڑپیں، چھبیس مظاہرین ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جھڑپوں کے دوران چھبیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سینکڑوں زخمی ہیں: ڈاکٹرز

یمن میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ دارالحکومت صنعاء میں مظاہرین پر سکیورٹی فوسز نے فائرنگ کردی ہے جس سے کم از کم چھبیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب لاکھوں مظاہرین صدارتی محل کے سامنے ملک کے صدر علی عبداللہ صالح سے کرسی چھوڑنے کا مطالبہ کررہے تھے، اور سکیورٹی فورسز نے انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی۔

یمن کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ گڑبڑ اس وقت شروع ہوئی جب مظاہرین نے سکیورٹی فورسز پر پٹرول بم پھینکے۔

سرکاری ویب سائٹ پر جاری کیے گئے ایک بیان میں وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ ایک اسلامی گروپ نے مظاہرین پر فائرنگ کی۔

لیکن وہاں موجود لوگوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر اس وقت فائرنگ کی جب انہوں نے صدارتی محل کی جانب مارچ کرنا شروع کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تیس سال سے صدارتی منصب پر فائز صدر صالح کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے جاری ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ سکیورٹی فورسز نے خودکار ہتھیاروں اور یہاں تک کہ طیاروں کو مار گرانے کے لیے استعمال کی جانے والی توپوں کا رخ مظاہرین کی جانب کردیا تھا۔ واٹر کینن اور آنسو گیس کے گولے بھی استعمال کیے گئے۔

اس کے بعد یہ جھڑپیں گلیوں میں بھی منتقل ہوگئیں۔ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ دارالحکومت میں چھبیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سینکڑوں گولیاں لگنے سے زخمی ہیں یا پھر آنسو گیس کے باعث بے ہوش ہیں اور ان کا علاج کیا جارہا ہے۔

اس واقعہ نے صدر صالح سے کرسی چھوڑنے کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین اور صدر صالح کی حامی سکیورٹی فورسز کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کردیا ہے۔

یمن کے صدر علی عبداللہ صالح اس وقت سعودی عرب میں زیرِ علاج ہیں۔ وہ جون میں ایک بم حملے میں زخمی ہوگئے تھے۔ تیس سال سے صدارتی منصب پر فائز صدر صالح کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے جاری ہیں۔

اسی بارے میں