ایران: ’بی بی سی کے چھ فلم میکرز گرفتار‘

تصویر کے کاپی رائٹ 1
Image caption گرفتاریوں سے ایک روز قبل بی بی سی فارسی ٹی وی نے آیت اللہ خامنہ ای پر فلم دکھائی تھی۔

ایران میں حکام نے فلم بنانے والے ایک گروپ کو گرفتار کیا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ بی بی سی فارسی سروس کے لیے کام کررہے تھے جس پر ایران میں پابندی عائد ہے۔

سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ چھ افراد کے اس گروپ کو فارسی سروس کو خفیہ رپورٹ بنا کر دینے کے لیے رقم ادا کی گئی تھی۔

بی بی سی کا کہنا ہے کہ فارسی سروس کے لیے ایران میں کسی بھی طرح اس کے لیے کوئی کام نہیں کرتا ہے۔

یہ گرفتاریاں ایسے وقت ہوئی ہیں جب ایک روز قبل ہی بی بی سی نے ایرانی سپریم رہنماء آیت اللہ خامنہ ای کے بارے میں ایک ڈاکومینٹری فلم دکھائی تھی۔

بی بی سی کے جیمس رینالڈز کا کہنا ہے کہ چینل کبھی کبھار ایران میں دیکھا جا سکتا ہے لیکن ڈاکومینٹری کی نشریات کے دوران اس کے سگنلز کو روک دیا گیا تھا۔

کارپوریشن کا کہنا ہے کہ ڈاکومینٹری اِن ہاؤس بنائی گئی تھی جبکہ فلم بنانے والے چھ افراد کے اس گروپ کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

کارپوریشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے افراد اپنے طور پر ڈاکومینٹری بناتے ہیں جن کی فلمیں فیسٹیول یا دیگر بین الاقوامی مواقع پر دکھائی جاتی ہیں۔

ڈاکومینٹری دکھانا چینل کے لیے معمول کی بات ہے اور بی بی سی فارسی ٹی وی ایسی فلموں کے جملہ حقوق خرید لیتا ہے۔

بی بی سی لینگویج سروس کی چیف لیلیان لینڈر کا کہنا ہے کہ بی بی سی فارسی نے نجی فلموں کے جملہ حقوق خرید کر کوئی غیرمعمولی کام نہیں کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فارسی لینگویج کی ٹی وی براڈ کاسٹ کی شفاف اور متوازن کوریج پر اپنا اثر و رسوخ جمانے کے لیے یہ گرفتاریاں ایران کی حکومت کی جانب سے بی بی سی پر دباؤ ڈالنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

کارپوریشن کا کہنا ہے کہ ایران میں بی بی سی کی نشریات کو خاص طور سے جام کیا جاتا ہے۔ سنہ دوہزار نو میں اپنے افتتاح سے چینل کے سگنل کو روکنے کی مسلسل اور جان بوجھ کر کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔

اسی بارے میں