زلزلے سے آگاہ نہ کرنے پر مقدمہ

Image caption چھ اپریل سنہ 2009 کو لاقلا میں زلزلے سے تین سو نو افراد ہلاک ہوئے تھے

اٹلی میں ان چھ سائنسدانوں اور ایک سرکاری اہلکار کے خلاف مقدمے کی کارروائی شروع ہوگئی ہے جن پر الزام ہے کہ وہ لاقلا میں آنے والے زلزلے کی پیشنگوئی کرنے میں ناکام رہے تھے۔

اس مقدمے کے ساتوں ملزمان سنہ 2009 میں اٹلی میں قدرتی آفات کے خطرے پر نظر رکھنے والی کمیٹی کے ارکان تھے۔

پانچ اپریل دو ہزار نو کو لاقلا میں زلزلے کے کئی معمولی جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔

ایک مقامی سائنسدان نے اس زلزلے سے ایک ہفتہ پہلے خبردار کیا تھا کہ علاقے میں گیس کی بڑھی ہوئی مقدار کی وجہ سے زلزلہ آنے کے امکانات ہیں۔ ان خدشات کی بناء پر آفات نگرانی کمیٹی کے ارکان کو لاقلا بھیجا گیا تھا۔

ان لوگوں نے وہاں حکام کے ساتھ ایک مختصر ملاقات کے بعد لاقلا کے لوگوں سے کہا تھا کہ فکر کی کوئی بات نہیں ہے اور انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

تاہم اگلے ہی دن چھ اپریل سنہ 2009 کو لاقلا میں چھ اعشاریہ تین شدت کا زلزلہ آیا جس سے تین سو نو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

استغاثہ نے ان افراد پر ’غفلت برتنے، زلزلے سے متعلق صحیح معلومات فراہم نہ کرنے اور نامکمل اور متضاد معلومات کی فراہمی‘ کا الزام لگایا ہے۔اگر ان افراد پر عائد الزامات ثابت ہوگئے تو انہیں پندرہ سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

دنیا بھر کے پانچ ہزار سے زیادہ سائنسدانوں نے ایک مشترکہ بیان میں اس مقدمے کی مخالفت کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سائنسدانوں کو قربانی کا بکرا بنانے کی بجائے زلزلے سے تحفظ کے طریقوں پر توجہ دی جانی چاہیے کیونکہ سائنسی طور پر زلزلے کی حتمی پیشگوئی کرنے کا کوئی طریقہ ابھی تک موجود نہیں۔

اسی بارے میں