برہان الدین ربانی خودکش حملے میں ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

افغانستان کی امن کونسل کے چیئرمین برہان الدین ربانی کابل میں ہونے والے ایک خودکش حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس حملے میں کئی دوسرے لوگ بھی مارے گئے ہیں۔

یہ خودکش حملہ برہان الدین ربانی کے گھر پر اس وقت ہوا جب اکہتر سالہ سابق افغان صدر طالبان رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے۔

حکام کے مطابق حملہ آور بھی انہی طالبان رہنماؤں میں سے ایک تھا اور اس نے دھماکہ خیز مواد اپنی پگڑی میں چھپا رکھا تھا۔

خیال رہے کہ افغانستان کی امن کونسل طالبان کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہےاور تاجک نسل سے تعلق رکھنے والے برہان الدین ربانی اس مذاکراتی عمل کی سربراہی کر رہے تھے۔

افغان حکام کے مطابق دو طالبان رہنما آئے اور کہا کہ وہ برہان الدین ربانی کے لیے ایک خاص پیغام لے کر آئے ہیں۔ ایک شخص باہر کھڑا رہا جبکہ دوسرا اندر گیا۔ حملہ آور نے اندر جانے کے بعد اپنی پگڑی میں موجود بم سے دھماکہ کر دیا۔

حملہ آور کے زندہ بچ جانے والے ساتھی کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

برہان الدین ربانی چند روز قبل ہی بیرونِ ملک سے اِن امن مذاکرات کے لیے ہی واپس افغانستان پہنچے تھے۔ منگل کے روز ہونے والی اس ملاقات کو خفیہ رکھا گیا تھا اور برہان الدین ربانی کو بھی چند گھنٹے قبل ہی اس بارے میں بتایا گیا تھا۔

برہان الدین ربانی کی ہلاکت کے بعد افغان صدر حامد کرزئی نے اپنا دورۂ امریکہ مختصر کردیا ہے تاہم واپسی سے قبل انہوں نے امریکہ کے صدر براک اوباما سے تفصیلی ملاقات کی ہے۔

صدر اوباما نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے برہان الدین ربانی کی ہلاکت کو بڑا نقصان قرار دیا ہے۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے امن کے لیے جاری کوششوں کو جاری رکھنے کا عزم دہرایا۔

افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ’یہ افغانستان کے لیے دکھ کا دن ہے لیکن یہی دن ہمارے اتحاد اور ہماری کوششوں کے تسلسل کو قائم رکھنے کا بھی ہے‘۔

برہان الدین ربانی کابل یونیورسٹی میں تدریس کے عمل سے وابستہ رہے تھے جس کی وجہ سے انہیں پروفیسر برہان الدین ربانی کہا جاتا تھا۔ وہ افغانستان میں عہدۂ صدارت پر فائز رہنے کے علاوہ ملک کی بڑی اپوزیشن جماعت کے رہنما بھی رہے۔

جب افغان امن کونسل کا قیام ہوا تھا تو صدر حامد کرزئی نے اس افغان عوام کے لیے سب سے بڑی امید قرار دیا تھا۔ انھوں نے طالبان سے کہا تھا کہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور ملک میں امن کے قیام کے لیے مدد کریں۔

تاہم اس کونسل کے بہت سے اراکین سابق جنگجو سردار ہیں جنھوں نے برسوں طالبان سے جنگ کی ہے اور امن کونسل میں ان کی شمولیت سے ان شکوک میں اضافہ ہوا کہ آیا کونسل کامیاب ہوگی بھی یا نہیں۔

حال ہی میں ایران میں ایک مذہبی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پرفیسر ربانی نے مسلمان علماء سے کہا تھا کہ وہ خودکش حملوں کے خلاف بات کریں۔

اسی بارے میں