فلسطین کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں

Image caption اسرائیل اور فلسطین کے مابین امن مذاکرات بحال کرنے کے سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی

امریکہ کے صدر براک اوباما فلسطینی رہنما محمود عباس سے بدھ کے روز ہونے والی ملاقات میں ان سے فلسطین کو اقوامِ متحدہ کی مکمل رکنیت دیے جانے کی درخواست نہ دینے کی استدعا کریں گے۔

اس سے پہلے فلسطین کے رہنما محمود عباس نے کہا تھا کہ وہ جمعہ کو اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکرٹری جنرل بان کی مون کے جنرل اسمبلی سے خطاب کے بعد فلسطین کو ادارے کی مکمل رکنیت دیے جانے کی باقاعدہ تحریری درخواست کریں گے۔

صدر اوباما اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آئندہ ہفتے ہونے والے اجلاس میں اس بحران کو دور کرنے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کے دوران اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو سے بھی ملاقات کریں گے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے ایک بار پھر اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ فلسطین کو اقوامِ متحدہ کی مکمل رکنیت دیے جانے کی درخواست کو ویٹو کر دیں گے۔

اسرائیل اور امریکہ کا کہنا ہے کہ فلسطین کا قیام صرف براہِ راست مذاکرت سے ہی ممکن ہے۔ دوسری جانب امریکہ، یورپ، روس اور اقوامِ متحدہ کے ثالثوں کی اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات بحال کرنے کی کوششیں ابھی تک نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات گزشتہ برس بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے تھے۔

امریکہ کی قومی سلامتی کے ڈپٹی مشیر بین روڈ نے میڈیا کو بتایا کہ صدر اوباما اسرائیل اور فلسطین کے رہنماؤں کو یہ بتانے کی کوشش کریں گے کہ امریکہ فلسطین کے قیام کے سلسلے میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے کیے جانے والے کسی بھی عمل پر کیوں یقین نہیں رکھتا۔

دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ نے تسلیم کیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے مابین امن مذاکرات بحال کرنے کے سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

دریں اثناء ریپبلکنز جماعت کے ارکان نے امریکی صدر براک اوباما کے موقف پر تنقید کی ہے۔

امریکی ریاست ٹیکساس کے گورنر ریک پیری کا کہنا ہے کہ اوباما کی پالیسی دونوں فریقین کو یکساں حیثیت دیتی ہے جو خطرناک توہین ہے۔

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو اور فلسطین کے صدر محمود عباس کا کہنا ہے کہ وہ براہِ راست مذاکرات کے لیے تیار ہیں تاہم محمود عباس فلسطین کو اقوامِ متحدہ کی مکمل رکنیت دیے جانے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔

اگر اقوامِ متحدہ کےسیکرٹری جنرل بان کی مون نے فلسطین کی قرارداد کو منظور کر لیا تو اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل اس قرارداد کا معائنہ کرے گی جس کے بعد اس پر ووٹنگ ہو گی۔

اس قرارداد کی منظوری کے لیے اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے پندرہ میں سے نو ارکان کی حمایت ضروری ہے جس میں سکیورٹی کونسل کے مستقل ارکان میں سے کوئی بھی اس کی مخالفت میں ووٹ نہ دے جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ اس قرارداد کو ویٹو کر دے گا۔

اسی بارے میں