امریکہ فلسطینی رکنیت کو ویٹو کرے گا

Image caption اسرائیل اور فلسطین کے مابین امن مذاکرات بحال کرنے کے سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی

امریکہ کے صدر براک اوبامہ نے فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات میں ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ وہ فلسطینی کی اقوامِ متحدہ میں مکمل رکنیت کی درخواست کو ویٹو کریں گے۔

صدر اوباما نے فلسطینی رہنما محمود عباس سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی جس میں وہ انہیں یہ درخواست دینے سے روکنا چاہتے تھے تاہم محمود عباس نے فلسطین کو اقوامِ متحدہ کی مکمل رکنیت دیے جانے کی درخواست کو پیش کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اس سے پہلے امریکی صدر براک اوباما نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی اپنی ریاست کے مستحق ہیں لیکن ایسا صرف اسرائیل کے ساتھ بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

صدر اوباما نے اپنی تقریر میں مزید کہا کہ امن کے لیے کوئی’ شارٹ کٹ یا مخصتر راستہ‘ نہیں ہے اور توقع ہے کہ فلسطینی اپنا فیصلہ واپس لے لیں گے۔

صدر اوباما نے کہا کہ’ امن صرف بیانات دینے اور اقوام متحدہ میں قراردادیں لانے سے نہیں آئے گا۔‘

’ میں اس بات پر قائل ہوں کہ یہ تنازع جو کئی دہائیوں سے جاری ہے کے خاتمے کے لیے کوئی شارٹ کٹ موجود کوئی نہیں ہے۔‘

فلسطینی کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں

عالمی اکثریت آزاد فلسطینی ریاست کی حامی

دریں اثنا فلسطین میں ہزاروں افراد نے اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کے لیے مظاہرہ کیا ہے۔ ایک فلسطینی اہلکار کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کو درخواست کا جائزہ لینے کے لیے وقت دینا چاہیے۔

صدر اوباما کی تقریر کے بعد فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے فلسطین کی درخواست کو ویٹو کرنے کی صورت میں مشرقِ وسطیٰ میں تشدد کا ایک نیا دور شروع ہو جائے گا۔

انھوں نے ایک سمجھوتے کی تجویز دی ہے، جس کے تحت اسرائیل اور فلسطین کو ایک لازمی اور واضح ٹائم لائن دینا ہو گی کہ وہ ایک ماہ کے اندر اندر بات چیت شروع کریں، چھ ماہ میں سرحدوں کے تعین اور سکیورٹی پر سمجھوتہ کریں اور ایک سال میں اس سمجھوتے کو حمتی شکل دیں۔‘

اسرائیل اور امریکہ کا کہنا ہے کہ فلسطین کا قیام صرف براہِ راست مذاکرت سے ہی ممکن ہے۔ دوسری جانب امریکہ، یورپ، روس اور اقوامِ متحدہ کے ثالثوں کی اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات بحال کرنے کی کوششیں ابھی تک نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات گزشتہ برس بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے تھے۔

امریکہ کی قومی سلامتی کے ڈپٹی مشیر بین روڈ نے میڈیا کو بتایا تھا کہ صدر اوباما اسرائیل اور فلسطین کے رہنماؤں کو یہ بتانے کی کوشش کریں گے کہ امریکہ فلسطین کے قیام کے سلسلے میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے کیے جانے والے کسی بھی عمل پر کیوں یقین نہیں رکھتا۔

دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ نے تسلیم کیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے مابین امن مذاکرات بحال کرنے کے سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

دریں اثناء ریپبلکنز جماعت کے ارکان نے امریکی صدر براک اوباما کے موقف پر تنقید کی ہے۔

امریکی ریاست ٹیکساس کے گورنر ریک پیری کا کہنا ہے کہ اوباما کی پالیسی دونوں فریقین کو یکساں حیثیت دیتی ہے جو خطرناک توہین ہے۔

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو اور فلسطین کے صدر محمود عباس کا کہنا ہے کہ وہ براہِ راست مذاکرات کے لیے تیار ہیں تاہم محمود عباس فلسطین کو اقوامِ متحدہ کی مکمل رکنیت دیے جانے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔

اگر اقوامِ متحدہ کےسیکرٹری جنرل بان کی مون نے فلسطین کی قرارداد کو منظور کر لیا تو اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل اس قرارداد کا معائنہ کرے گی جس کے بعد اس پر ووٹنگ ہو گی۔

اس قرارداد کی منظوری کے لیے اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے پندرہ میں سے نو ارکان کی حمایت ضروری ہے جس میں سکیورٹی کونسل کے مستقل ارکان میں سے کوئی بھی اس کی مخالفت میں ووٹ نہ دے جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ اس قرارداد کو ویٹو کر دے گا۔

اسی بارے میں