سابق افغان صدر برہان الدین ربانی ہلاکت، کرزئی مشکلات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سابق افغان صدر اور جہادی کمانڈر ُاستاد برہان الدین ربانی کی منگل کو افغان دارالحکومت کابل میں ہلاکت کو افغانستان کی سیاست، مختلف قومتیوں کے درمیان مفاہمت اور دیگر کئی امور کے حوالے سے ایک بڑا نقصان قرار دیا جارہا ہے۔

ان کی موت سے نہ صرف افغانستان میں طالبان شدت پسندوں کے ساتھ امن اور مفاہمت کے حوالے سے جاری کوششوں کو شدید دھچکا لگے گا بلکہ پشتون ، تاجک اور دیگر قومیتوں کے درمیان جو پہلے سے ایک جنگ کی کفیت چلی آرہی تھی اس میں مزید شدت آنے کے خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں۔

ادھر دوسری طرف اس قتل کی ذمہ داری افغان طالبان نے قبول کی ہے جو افغان تجزیہ نگاروں کے مطابق پشتون اور تاجک قبیلوں کے مابین تناؤ کی کفیت میں اضافہ کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس ہلاکت سے پاکستان پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

پاکستان پر پہلے ہی امریکہ کی طرف افغان شدت پسندوں کی پشت پناہی کرنے بالخصوص حقانی نیٹ ورک کو پناہ دینے کے الزامات لگتے رہے ہیں اور ان تنظیموں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔

امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے سلسلے میں انتخاب کا آپشن موجود نہیں ہے۔

افغان ُامور کے ماہر اور افغان نیوز ایجنسی ’افغان اسلامک پریس‘ کے ڈائریکٹر محمد یعقوب شرافت کا کہنا ہے کہ ُاستاد ربانی ایک ہمہ جہت شخصیت تھے اور ان کے پشتونوں اور دیگر تمام اقوام کے ساتھ اچھے روابط تھے۔‘

انہوں نے کہا کہ اگرچہ نسلاً تو وہ تاجک تھے لیکن افغانستان کے پشتون ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے کیونکہ وہ روس کے خلاف جہاد کے دنوں میں ایک اہم کمانڈر اور شخصیت رہ چکے تھے۔ ان کے بقول ’ انھیں پشتونوں، تاجک اور دیگر اقوام کے درمیا ن ایک پل کی حیثیت حاصل تھی اور افغان صدر حامد کرزئی کو بھی ان قومیتوں پر قابو پانے کے لئے ایک ایسی ہی شخصیت کی ضرورت تھی لیکن اب ان کی ہلاکت سے یقینی طورپر افغان حکومت کے مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ُاستاد ربانی کی پارٹی میں اب ایسی کوئی شخصیت نہیں ہے جو اس جیسا کردار ادا کرسکے یا ان کے خلا کو ُپر کرسکے۔

برہان الدین ربانی تقریباً اٹھارہ سال تک پشاور میں مقیم رہے اور آج بھی ارباب روڈ کے علاقے میں ایک گلی ’ربانی سٹریٹ‘ ان کے نام سے موسوم ہے۔ وہ سن انیس سو چوہتر میں افغانستان سے ہجرت کرکے صوبہ کونڑ کے راستے پاکستان کے قبائلی علاقے میں داخل ہوئے تھے اور یہاں آکر اپنی سیاسی جماعت جمعیت اسلامی کی بنیاد رکھی تھی۔ وہ جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں بھی رہائش اختیار کر چکے ہیں اور ان کا وہاں ایک قلعہ نما گھر آج بھی موجود ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس مکان کو وہ جہادی مرکز کے طور پر استعمال کرتے تھے۔

افغانستان میں وہ ’اُستاد ربانی‘ کے نام سے جانے جاتے تھے کیونکہ وہ کابل یونیورسٹی میں اسلامی فلسفہ کے پروفیسر بھی رہ چکے تھے۔ اکہتر سالہ ربانی ان سات جہادی کمانڈروں میں شامل تھے جنھوں نے سابق روسی افواج کے خلاف جہاد کا آغاز کیا تھا۔ اُستاد ربانی اور ان کی پارٹی کو افغانستان کے شمالی حصوں میں اہم حیثیت حاصل تھی۔

بتایا جاتا ہے کہ برہان الدین ربانی نے مصر میں تعلیم کے دوران اخوان المسلمون پارٹی کی نظریات سے متاثر ہوئے اور وہاں سے واپسی کے بعد انہوں نے ساٹھ کی دہائی میں کابل میں اسلامی ریاست کے قیام کےلیے کوششوں کا آغاز کیا۔

وہ اکثر اوقات ذرائع ابلاغ سے انٹرویوز میں افغانستان میں مقیم امریکی افواج کی مخالفت بھی کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے ’روسی ٹی وی ء سے اپنے آخری انٹرویو میں کہا تھا کہ افغان ملت ایک لمبے عرصہ تک امریکی فوجیوں کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔