امریکی منصوبہ اندرونی مداخلت ہے: چین

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تائیوان کا کہنا ہے کہ چین کی فوجی صلاحیت بڑھنے سے اسے خطرہ ہے

چین نے امریکہ اور تائیوان کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے جس میں امریکہ تائیوان کے پرانے ایف سولہ طیاروں کو مذید بہتر بنائےگا پر تنقید کرتے ہوئے اسے اپنے اندرونی معاملات میں بڑی مداخلت قرار دیا ہے۔

چین کے نائب وزیرِ خارجہ زیانگ ذیجن کا کہنا ہے کہ امریکہ اور تائیوان کے درمیان پانچ ارب ڈالر کے معاہدے نے تائیوان کی آزادی کی بات کرنے والی علیحدگی پسند طاقتوں کو غلط پیغام بھیجا ہے۔

چین کی وزارتِ خارجہ کی ویب سائیٹ پر شائع ہونے والے بیان کے مطابق مسٹر زیانگ کا کہنا ہے کہ امریکہ کے اس غلط رویے کی وجہ سے امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات کو نقصان پہنچے گا جس کا اثر فوجی، سیکورٹی اور دیگر شعبوں میں تعاون اور تبادلے کے پروگراموں پر بھی پڑے گا۔

چین کے وزیرِ خارجہ نے اپنے بیان میں امریکہ سے استدعا کی ہے کہ وہ تائیوان کو ہتھیار بیچنے کے معاملے کی نزاکت کو سمجھے اور اس حوالے سے چین کے موقف کو سنجیدیگی سے لے۔

چین تائیوان کو اپنا حصہ تسلیم کرتا ہے اور تائیوان پر اس کی فوجی برتری میں بتدریج اضافہ ہوا ہے تاہم امریکہ قانونی طور پر تائیوان کے دفاع کے حوالے سے اس کی مدد کرنے کا پابند ہے۔

امریکہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق امریکہ اب تائیوان کو نئے اور بہتر ایف سولہ طیارے فروخت نہیں کرے گا جس کی تائیوان امید کر رہا تھا۔

دوسری جانب امریکی حکام نے بتایا ہے کہ تائیوان کے موجودہ ایف سولہ لڑاکا طیاروں کے پرانے پرزوں کی جگہ نئے پرزے لگا دیئے جائیں گے جس سے وہ جدید طیاروں جیسے ہو جائیں گے۔

تائیوان کے وزیرِ دفاع کاؤ ہواچُو نے تائیپی میں ایک پریس کانفرنس میں کہا ’اس اپ ڈیٹ کے بعد فضائیہ کی صلاحیت بہت زیادہ بہتر ہو جائے گی۔‘

تائیوان کی وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ چین کی فوجی صلاحیت بڑھنے سے انہیں خطرہ ہے۔

بیان میں مذید کہا گیا ہے کہ ’علاقائی سلامتی اور ترقی کے لیے ہماری دفاعی صلاحیت میں بہتری لانا بہت زیادہ اہم ہے۔‘

مگر تائیوان نے یہ بھی کہا کہ وہ جدید ایف سولہ لڑاکا طیارے خریدنے کی اپنی کوششیں جاری رکھے گا جو چین کے جدید جنگی طیاروں جیسے ہی ہوں گے۔

تائیوان کے وزیرِ دفاع کےمطابق اس معاہدے کے بارے میں امریکہ کو فیصلہ کرنا ہے، انہوں نے امریکی حکام سے اس معاہدے پر جلد سے جلد اتفاق کرنے کی اپیل کی۔

امریکہ کا یہ منصوبہ اب پارلیمنٹ میں کانگریس کی منظوری کے لیے بھیجا جائے گا۔

کچھ تجزیہ کار امریکہ کے اس فیصلے کو چین کو خوش کرنے والے اقدامات کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں کیونکہ اس نے دھمکی دی تھی کہ نئے طیاروں کی فروخت سے دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہو جائیں گے۔

اسی بارے میں