گراؤنڈ زیرو: متنازعہ اسلامی مرکز کا افتتاح

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یہ اسلامک سنٹر اس مقام کے قریب ہے جہاں کبھی ورلڈ ٹریڈ سنٹر تھا۔

امریکہ میں گیارہ سمتبر کے حملوں کے مقام کے قریب متنازعہ اسلامک سنٹر مخالفین کی جانب سے کسی قسم کے احتجاج کے بنا آج کھول دیا گیا۔

افتتاح کے موقع پر سینکڑوں لوگوں نے نیویارک میں قائم اس اسلامک سنٹر کا دورہ کیا۔

یہ اسلامی مرکز اُس جگہ سے محض چند ہی فاصلے پر واقع ہے جہاں کبھی ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی عمارت کھڑی ہوا کرتی تھی۔

گذشتہ برس اس مرکز کے حامی اور اُن لوگوں جنہیں حملے کے مقام کے نزدیک مسلمانوں کی جائے عبادت کے قیام پر اختلاف تھا کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔

اس سے پہلے یہاں وقتی طور پر قائم ایک مسجد کے امام فیصل رؤف نے کہا تھا کہ ’یہاں مسجد کا بننا اس لیے اہم ہے کہ پوری دنیا کے لیے اس جگہ کی ایک علامتی اہمیت ہے اور یہ بہت ضروری ہے کہ ہم لوگ بھی اس کا حصہ ہوں۔ اس سے بہتر کونسی جگہ ہو سکتی ہے جہاں ہم یہ ظاہر کر سکیں کہ ہم مسلمان گیارہ ستمبر کے حملوں کی مزمت کرتے ہیں۔‘

لیکن کئی لوگوں کو اس منصوبے پر اعتراض ہے۔ اس کے ناقدین کا موقف تھا کہ نائن الیون کے حملے میں ہلاک ہونے والے تقریباً تین ہزار افراد کے خاندانوں کا خیال کرنا چاہیے، کیونکہ وہ لوگ یہ نہیں چاہیں گے کہ حملہ آوروں نے جس مذہب کے نام پر حملے کیے، اسی مذہب کا ایک مرکز یہاں نمایاں ہو۔

عمارت کے مالک شریف الجمال کا کہنا ہے کہ وہ ایسا مرکز بنانا چاہتے ہیں جہاں وہ اپنی ثقافت اور روایتی مہمانداری کو ظاہر کر سکیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ایسے مرکز سے اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں بھی دور ہو سکیں۔

اسی بارے میں