قذافی مخالف جنگجو سبھا میں داخل

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سبھا پر کنٹرول حاصل کرنے کے دوران عبوری حکومت کے اٹھارہ جنگجو ہلاک ہوئے

لیبیا میں عبوری حکومت کا کہنا ہے کہ ان کی فورسز نے دفاعی نقطۂ نظر سے اہم شہر سبھا کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

اس شہر سے ہمسایہ ملک نائجر جانے والی مرکزی سڑک گزرتی ہے۔

قذافی کے بیٹے کو نائجر میں سیاسی پناہ

کرنل قذافی کی حامیوں سے شہر کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد عبوری حکومت کے جنگجوؤں نے خوشی میں ہوائی فائرنگ کی ہے۔

صحرائی شہر سبھا لیبیا میں ان چند شہروں میں سے ایک تھا جہاں پر کرنل قذافی کے حامیوں کا کنٹرول ہے۔

سبھا شہر روایتی طور پر کرنل قذافی کے قبیلے قذافہ کا مضبوط گڑھ رہا ہے اور صحرا میں لیبیا کا سب سے بڑا شہر ہے۔

کرنل قذافی کے بارے میں خیال کیا جا رہا تھا کہ وہ اس شہر میں روپوش ہیں لیکن تاحال ان کی موجودگی کے مقام کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکا ہے۔

واضح رہے کہ کرنل قذافی گزشتہ ماہ دارالحکومت طرابلس پر عبوری حکومت کے کنٹرول کے بعد سے لاپتہ ہیں۔

دو دیگر شہروں بنی ولید اور کرنل قذافی کے آبائی شہر سرت پر اب بھی ان کے حامیوں کا کنٹرول ہے اور عبوری حکومت کے جنگجوؤں کو ان شہروں میں شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔

سبھا کی مقامی کونسل کے سربراہ سیلمان خلیفہ نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’سبھا مکمل طور پر آزاد ہے‘۔

انھوں نے کہا کہ سبھا پر کنٹرول حاصل کرنے کے دوران عبوری حکومت کے اٹھارہ جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شہر کے کچھ حصوں میں اب بھی کرنل قذافی کے حامی سنائپرز یا نشانچیوں کی موجودگی کی اطلاع ہے۔

اسی بارے میں