فلسطین کی رکنیت کی درخواست دائر

Image caption صدر اوباما نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر کو واضح طور پر بتایا ہے کہ امریکہ فلسطینی درخواست کو ویٹو کرے گا

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اقوام متحدہ میں فلسطین کو مکمل ریاست کی رکنیت دینے کی درخواست پیش کردی ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ صدر عباس اقوام متحدہ میں باضابطہ درخواست دائر کرنے کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے جس میں وہ دنیا کو آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔

فلسطین پر سیربین میں مزاکرہ سنئیے

فلسطینی اتھارٹی کو اقوام متحدہ میں مبصر کی حیثیت حاصل ہے اور پی ایل او کو فلسطینیوں کی نمائندہ تنظیم تسلیم کیا جاتا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو صدر محمود عباس کے فوراً بعد یو این جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ امریکہ اور اسرائیل آزاد فلسطینی ریاست کی مخالفت کر رہے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست کا قیام صرف بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

امریکہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کی درخواست کو ویٹو کر دے گا۔

امریکی صدر براک اوباما نےجمعرات کو فلسطینی اتھارٹی کےصدر محمود عباس سے ملاقات میں بتایا کہ امریکہ آزاد فلسطینی ریاست کی رکنیت کی درخواست کو ویٹو کر دے گا۔ البتہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر اقوام متحدہ میں درخواست دائر کرنے کے فیصلے پر قائم ہیں۔

اگر صدر محمود عباس کی درخواست کو سیکرٹری جنرل بان کی مون نے منظور کرلیا تو اقوام متحدہ کی پندرہ رکنی سکیورٹی کونسل اس درخواست کا جائزہ لےگی۔ اگراقوام متحدہ کے مستقل ممبران میں کسی نے اس کو ویٹو نہ کیا تو فلسطینی درخواست کی منظوری کے لیے سکیورٹی کونسل کے نو ممبران کی حمایت چاہیے ہوگی۔

سکیورٹی کونسل میں ووٹنگ کے مرحلے تک پہنچنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل سکیورٹی کونسل میں شامل ممالک سے لابنگ کر رہے ہیں کہ وہ یا تو اس درخواست کے خلاف ووٹ دیں یا پھرغیر حاضر رہیں۔

اسی بارے میں