برہان الدین ربانی کابل میں سپردِ خاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’وہ افغانستان میں امن چاہتے تھے اور اسی راہ میں انہوں نے اپنی جان قربان کر دی‘

افغان امن کونسل کے سربراہ اور سابق صدر برہان الدین ربانی کو جمعے کے روز دارالحکومت کابل میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

وہ ایک خودکش حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ افغان صدر حامد کرزئی اپنا دورہء امریکہ مختصر کرکے برہان الدین ربانی کی آخری رسومات کے لیے افغانستان واپس پہنچے۔

تدفین کے موقع پر پولیس کو اُس وقت فائرنگ کرکے لوگوں کو منتشر کرنا پڑا جب بڑی تعداد میں سوگوار ان کی قبر کے ارد گرد جمع ہو گئے۔

اس موقع پر افغان صدر حامد کرزئی نے کہا کہ افغانیوں کو لڑائی کے خاتمے کےلیے اپنی کوششیں جاری رکھنا چاہئیں اور امن کے دشمنوں کے خلاف کارروائی کرنا چاہئیے۔

برہانِ الدین ربانی کی آحری رسومات کے موقع پر کابل شہر مںی سکیورٹی ہائی الرٹ کی رہی۔ سڑکوں کو ٹریفک سے خالی کروا دیا گیا اور قبرستان کے راستہ مںی ہزاروں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے۔

کابل میں سوگ کا سماں ہے اور جمعرات کے روز سینکڑوں افراد انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ان کی رہائش گاہ کے پاس جمع ہوئے۔ کابل میں برہان الدین ربانی کی ہلاکت کے خلاف مظاہرہ بھی ہوا ہے اور

برہان الدین ربانی منگل کو اس وقت ہلاک ہوگئے تھے جب وہ طالبان رہنماؤں سے اپنی رہائش گاہ پر مذاکرات کر رہے تھے کہ دوران ایک خودکش حملہ آور نے دھماکہ کر دیا تھا۔

حکام کے مطابق حملہ آور بھی انہی طالبان رہنماؤں میں سے ایک تھا اور اس نے دھماکہ خیز مواد اپنی پگڑی میں چھپا رکھا تھا۔

خیال رہے کہ افغانستان کی امن کونسل طالبان کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے اور تاجک نسل سے تعلق رکھنے والے برہان الدین ربانی اس مذاکراتی عمل کی سربراہی کر رہے تھے۔

برہان الدین ربانی چند روز قبل ہی بیرونِ ملک سے ان امن مذاکرات کے لیے ہی واپس افغانستان پہنچے تھے۔ منگل کے روز ہونے والی اس ملاقات کو خفیہ رکھا گیا تھا اور برہان الدین ربانی کو بھی چند گھنٹے قبل ہی اس بارے میں بتایا گیا تھا۔

کابل میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور پولیس نے برہان الدین ربانی کی رہائش گاہ کے قریبی علاقے کی ناکہ بندی کی ہوئی ہے جہاں تعزیت کے لیے آنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے جن کی تلاشی لی جا رہی ہے۔

کابل میں بی بی سی کے ڈیوڈ لیون کا کہنا ہے کہ شہر کے سفارتی علاقے میں واقع رہائش گاہ کے قریبی علاقوں میں عمارتوں پر کالی چادریں لٹکا دی گئی ہیں اور تعزیت کے لیے آنے والوں میں سابق جنگجو سردار بھی شامل ہیں۔

ایک سوگوار شخص حیات اللہ نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ’ہم یہاں امن اور استحکام کے دشمنوں کی مذمت کرنے آئے ہیں۔ یہ لوگ ہمارے ملک اور حکومت کے دشمن ہیں۔ ہم اپنے رہنما کے قتل کی مذمت کرتے ہیں‘۔

نامہ نگار کے مطابق علاقے میں کئی سو ایسے افراد بھی موجود ہیں جنہوں نے سر پر کالی پٹیاں باندھی ہوئی ہیں اور ربانی کی تصاویر اٹھائے یہ افراد قرآنی آیات کا ورد کر رہے ہیں۔

موقع پر موجود کابل کے ایک رہائشی مرزا محمد کا کہنا تھا کہ ’وہ افغانستان میں امن چاہتے تھے اور اسی راہ میں انہوں نے اپنی جان قربان کر دی۔ افغانستان کے دشمن اس ملک میں امن کے خواہاں نہیں ہیں اور وہ نہیں چاہتے ہیں کہ یہاں کہ لوگ امن سے رہیں‘۔

ایک طالبعلم محمد ابراہیم نے کہا کہ ’ آج افغان عوام کے لیے انتہائی غم کا دن ہے کیونکہ انہوں نے اپنا ایک عظیم رہنما کھو دیا ہے۔ اس دن کو ہم اپنی ناخوشگوار یاداشتوں میں سے ایک ایک طور پر یاد رکھیں گے جب ہم نے اس عظیم شخص کو کھو دیا‘۔

اسی بارے میں