پوتن: پھر صدر بننے کا عزم

پوتن تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دو بار صدارت کے بعد ولادیمیر پوتن نے وزارتِ عظمٰی سنبھال لی اور اب پھر صدارت کا انتخاب لڑنے والے ہیں۔

روس کے سابق صدر اور موجودہ وزیراعظم ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ انہوں نے 2012 میں صدراتی امیدوار بننے کی تجویز قبول کر لی ہے۔

برسرِ اقتدار یونائیٹڈ رشین پارٹی کی سالانہ کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر پوتن اور موجودہ صدر دیمتری مِدویدیف نے ایک دوسرے سے سیاسی کردار تبدیل کرنے کی تائید کی۔ جس کا مطب یہ ہے کہ مدویدیف ایک پھر صدارت سے وزارتِ عظمٰی پر چلے جائیں گے۔

اس اعلان سے قبل روس میں اس بار یونائیٹڈ رشین کے صدارتی امیدوار کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔

یونائیٹڈ رشین پارٹی کو روسی سیاست میں بالا دستی حاصل ہے اور مبصرین کا کہنا ہے کہ اس اعلان کے بعد مسٹر پوتن کا ایک بار پھر کریملن جانا یقینی ہے۔

مسٹر مدویدیف کے 2008 میں صدر بننے سے قبل پوتن دو بار روس کے صدر رہ چکے ہیں۔ روسی آئین کے مطابق کوئی بھی مسلسل تین مدتوں کے لیے صدر کے منصب پر نہیں رہ سکتا۔

کانگریس کے دوران صدر میدویدیف نے آئندہ صدر کے لیے مسٹر پوتن کا نام تجویز کیا، جس کی تائید کے بعد پوتن نے کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‘میں اپنی صدارتی نامزدگی پر آپ سب کے مثبت ردِ عمل کا شکر گزار ہوں، اب جب کہ آپ سب میری نامزدگی کے لیے مسٹر میدویدیف کی تجویز کی تائید کر چکے ہیں تو مجھے بھی امیدوار ہونا قبول کر لینا چاہیے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے لیے یہ ایک عظیم اعزاز ہے۔

اس قبل کانگریس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر پوتن نے کانگریس کے شرکاء سے کہا کہ دسمبر کے پارلیمانی انتخابات کے لیے پارٹی کے امیدواروں کی فہرست میں مسٹر میدویدیف کو سرفہرست ہونا چاہیے جس پر شرکا نے تالیاں بجا کر تائید کی لیکن جب مسٹر میدویدیف نے پوتن کا نام صدارتی امیدوار کے لیے تجویز کیا تو انتہائی جوش و خروش کا مظاہرہ کیا گیا۔

روس میں عام تاثر ہے کہ صدر میدویدیف کے مقابلے میں مسٹر پوتن روس میں زیادہ بااثر اور زیادہ طاقتور ہیں۔

اسی بارے میں