یمن: پرتشدد واقعات جاری، ہلاکتیں’چالیس‘

یمن تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فیلڈ ہسپتال کے ڈاکٹر کے مطابق حملے میں پچاس افراد زحمی ہوئے ہیں۔

یمن کے دارالحکومت صنعاء میں غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق پرتشدد واقعات میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کم از کم چالیس ہو گئی ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فورسز نے اسی چوک پر مظاہرین پر حملہ کیا جہاں کئی ماہ سے صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف احتجاج کیا جا رہا تھا۔

ایک مقامی صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ چوک پر حکومتی سکیورٹی فورسز اور منحرف فوجیوں کے مابین جھڑپیں ہوئی ہیں۔

مظاہرین کے کیمپ پر جنوب کی جانب سے حملہ جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب کو شروع ہوا اور غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اب تک چالیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

جھڑپوں میں شدت اس وقت آئی جب صدر صالح کے بیٹے احمد کی سربراہی میں ایلیٹ ریپبلکن گارڈز کی منحرف یونٹس اور مظاہرین کے حامی قبائلیوں کے مابین لڑائی شروع ہوئی۔

یمن میں یہ تشدد صدر علی عبداللہ صالح کی وطن واپسی کے ایک دن بعد شروع ہوئے ہیں۔ صدر صالح ایک قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے کے بعد تین ماہ سے سعودی عرب میں زیرِ علاج تھے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صدر صالح کی یمن واپسی سے خانہ جنگی کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ گذشتہ ہفتے جاری رہنے والی کشیدگی میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

چوک میں قائم ایک فیلڈ ہسپتال کے طبی کارکن محمد القبطی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ گذشتہ رات ہوئے حملے میں کم سے کم پچپن افراد زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کے مظاہرین کو روکنے والی فوجی بریگیڈ کے کئی اہلکار بھی ہلاک ہونے والے سترہ افراد میں شامل ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مظاہرین کے خمیوں اور قریبی عمارتوں میں آگ لگی ہوئی ہے۔ احتجاجی کیمپ کے نزدیک ایک رہائشی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ حکومتی فورسز نے بکتر بند گاڑیاں اور بندوقوں کا استعمال کیا ہے۔

ایک عینی شاہد نے بتایا’ وہاں شدید لڑائی ہو رہی تھی، میرا گھر لرز رہا تھا، اب وہاں مظاہرین نہیں ہیں، وہاں صرف ملسح لوگ ہیں۔‘

اس سے پہلے جمعے کی صبح اطلاعات کے مطابق دارالحکومت میں تیرہ مظاہرین ہلاک ہو گئے تھے۔ مطاہرین صدر صالح کی اقتدار سے علیحدگی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

صدر صالح نے اچانک وطن واپسی پر تشدد کو روکنے کے لیے فائر بندی کا اعلان کیا تھا جس کے دوران گذشتہ ایک ہفتے میں کم سے کم سو افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ یہ ہلاک ہونے والے زیادہ تر لوگ نہتے مظاہرین بتائے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں