کابل میں ’سی آئی اے‘ کی عمارت پر حملہ

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایک کمپاؤنڈ میں فائرنگ کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس کمپاؤنڈ میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کا دفتر ہے۔

ایک امریکی اہلکار نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس عمارت کو پہلے آریانا ہوٹل کے نام سے جانا جاتا تھا تاہم انہوں نے حملے کے بارے میں صورتحال کو ابھی ’غیر واضح‘ قرار دیا ہے۔

سی آئی اے کی جانب سے ابھی اس بارے میں کوئی بیان نہیں آیا ہے لیکن افغان انٹیلیجنس کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس واقعہ میں کم از کم ایک حملہ آور ہلاک ہو گیا ہے۔

حقانی گروپ آئی ایس آئی کا بازو ہے: ایڈمرل مائیک مولن

کابل حملہ: تمام شدت پسند ہلاک

خیال رہے کہ دو ہفتے پہلے اسی علاقے میں واقع امریکی سفارت خانے اور نیٹو کے مرکزی دفتر پر شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا اور بیس گھنٹے تک جاری رہنے والے اس حملے میں پچیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ان حملوں کی ذمہ داری امریکہ نے حقانی نیٹ ورک پر عائد کی تھی اور کہا تھا کہ حقانی نیٹ ورک کو پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی حمایت حاصل ہے تاہم پاکستان نے اس کی سختی سے تردید کی تھی۔ان الزامات کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات میں شدید تناؤ پایا جاتا ہے۔

کابل میں فائرنگ کی آوازیں اتوار کی شام سنائی دی تھیں تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ عمارت کے اندر پیش آیا ہے یا باہر۔

ایک امریکی اہلکار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ابھی تک صورتحال ’غیر واضح‘ ہے اور اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

اہلکار نے اس سے زیادہ معلومات فراہم کرنے سے انکار کیا ہے۔

افغان وزارت داخلہ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ افغان پولیس نے آریانا ہوٹل کے اندر سے کچھ دیر تک فائرنگ کی آوازیں سنی ہیں۔

وزارتِ داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ افغان سکیورٹی فورسز عمارت کے اندر نہیں جا سکتی ہیں کیونکہ یہاں اتحادی افواج تعینات ہیں۔

یہ کپماؤنڈ کابل کے محفوظ ترین سمجھے جانے والے علاقے میں واقع ہے، اس کے نزدیک صدارتی محل، امریکی سفارت خانہ اور نیٹو کا فوجی اڈہ ہے۔

نیٹو اور امریکی سفارت خانے نے بھی ابھی سرکاری طور پر اس واقعے کے بارے میں کچھ نہیں کہا ہے۔

اسی بارے میں