طرابلس: بارہ سو ستر افراد کی اجتماعی قبر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

لیبیا میں عبوری حکومت کا کہنا ہے کہ دارالحکومت طرابلس میں بارہ سو ستر افراد کی ایک اجتماعی قبر دریافت ہوئی ہے۔

حکام کا خیال ہے کہ یہ ابو سلیم جیل کے ان قیدیوں کی باقیات ہیں جنھیں سنہ انیس سو چھیانوے میں کرنل قذافی کی سکیورٹی فورسز نے قتل کر دیا تھا۔

اس اجتماعی قبر کی کھدائی جلد شروع کی جائے گی۔

لیبیا میں بارہ اجتماعی قبریں دریافت

لیبیا: حکومت اور باغیوں پر جنگی جرائم کا الزام

واضح رہے کہ لیبیا میں کرنل قذافی کے خلاف تحریک اس وقت شروع ہوئی تھی جب ابو سلیم جیل کے قیدیوں کے رشتہ داروں کی نمائندگی کرنے والے وکیل کی رہائی کے لیے مظاہرے شروع ہوئے تھے۔

عبوری حکومت کے مطابق جیل کے اہلکاروں سے سوالات پوچھنے پر اجتماعی قبر جیل کے اندر موجود ایک بنجر میدان سے ملی ہے جہاں پر ہڈیاں بکھری ہوئیں تھیں۔

جیل کے اہلکار اس وقت جیل میں تعینات تھے جب قیدیوں کو جیل کے نامناسب حالات پر احتجاج کرنے پر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

جیل میں قتل ہونے والے افراد کے کئی رشتہ دار اجتماعی قبر پر جا رہے ہیں۔

ان میں سمی اسدی بھی شامل ہیں جن کے دو بھائی مارے گئے تھے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں پانچ سال پہلے بتایا گیا تھا کہ طبی وجوہات کی وجہ سے ان کے بھائی مر گئے ہیں۔

’میری اس وقت ملی جلی کیفیت ہے، ہم خوش بھی ہیں کہ انقلاب کامیاب رہا لیکن جب میں یہاں کھڑا ہوں تو مجھے اپنے بھائی اور دیگر دوست یاد آ رہے ہیں جنھیں اس لیے ہلاک کر دیا گیا کہ وہ کرنل قذافی کو پسند نہیں کرتے تھے۔‘

بی بی سی کے جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ اب تک بہت کم ہی معلوم ہے کہ کن حالات میں قیدیوں کی موت واقع ہوئی تھی۔

چند عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ان قیدیوں کو جیل میں احتجاج کرنے پر دستی بموں اور فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا تھا۔

عبوری حکومت کے حکام کا کہنا ہے کہ قیدیوں کی ہلاکت کی اصل وجوہات جاننے کے لیے غیر ملکی فورنسک ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔

سرت پر حملے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سرت میں گولیاں چلنے کی آوازیں آرہی ہیں اور جگہ جگہ دھویں کے سیاہ بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔

لیبیا میں عبوری حکومت کے جنگجوؤں نے کرنل قذافی کے آخری مضبوط گڑھ سرت پر بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں۔

جنگجو اب سرت شہر کے وسط سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں جبکہ شہر میں گولیوں کی شدید آوازیں سنی جا رہی ہیں اور کئی جگہوں سے دھویں کے سیاہ بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار نے کہا کہ جیسے ہی رات آئی تھی جنگجوؤں نے نئے حملوں کے لیے اپنے آپ کو منظم کیا تھا۔

سرت کرنل قذافی کی جائے پیدائش ہے تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ وہ اب اسی شہر میں موجود ہیں یا نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ none
Image caption جنگجوؤں نے نئے حملوں کے لیے اپنے آپ کو منظم کیا تھا۔

سرت میں جنگجوؤں کے ساتھ موجود بی بی سی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سرت عبوری حکومت کے جنگجوؤں کے لیے ایک بڑا ہدف رہا ہے اور اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ شہر بھی عبوری حکومت کے جنگجوؤں کی جھولی میں گرنے والا ہے۔

سرت کرنل قذافی کے حامیوں کے دو مضبوط ٹھکانوں میں سے ایک ہے جہاں عبوری حکومت کے جنگجوؤں کی جانب سے حالیہ ہفتوں میں کئی حملے ناکام بنائے گئے تھے۔

عبوری حکومت کے ایک جنگجو نے خبر رساں ادارے کو بتایا کے قذافی کی حامی فوج مسجدوں اور دوسری عمارتوں پر سے گولیاں چلا رہی ہے۔ ’وہ لوگ گھروں اور عوامی عمارتوں کو استعمال کر رہے ہیں۔‘

طبی کارکنوں نے خبر رساں ادارے اے ایف کو بتایا کہ عبوری حکومت کے دو فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

عبوری حکومت کی فوج کو کرنل قذافی کے دوسرے مضبوط گڑھ بنی ولید میں بھی شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ بنی ولید دارالحکومت طرابلس سے جنوب مشرق کی جانب ہے۔

لیبیا کے حکمران رہنے والے کرنل معمر قذافی کے متعدد ساتھی اور ان کے خاندان کے بیشتر افراد ہمسایہ ممالک الجیریا اور نائجر جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں