بارش مرچیں کھا گئی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کنری کی آڑھت منڈی نہ صرف سرخ گول مرچ بلکہ سونف اور اسبغول کی بھی سب سے بڑی منڈی ہے

انگریزوں نے سنہ تیس کے عشرے تک پنجاب کے ساتھ ساتھ سندھ میں جو نہری نظام بچھایا تھا وہ سب سے زیادہ حیدرآباد اور میرپور خاص ڈویژن کو راس آیا۔ نہری نظام کے ساتھ ساتھ پنجابی آباد کار بھی آئے اور نئی فصلیں لائے۔

ان ہی میں سے ایک صاحب سنہ ساٹھ کے عشرے میں لاہور کے مضافاتی علاقے کوٹ رادھا کشن سے ڈنڈی کٹ گول سرخ مرچ کے بیج لے آئے اور عمر کوٹ کے تعلقہ کنری میں بو دیے۔

دن کی گرمی اور نیم ٹھنڈی رات گول مرچ کو ایسی پسند آئی کہ پوچھیے مت۔ حال یہ ہوگیا کہ سانگھڑ، میرپور خاص اور بدین کا علاقہ پاکستان کا ریڈ چلی کاریڈور بن گیا اور سالانہ سوا سے ڈیڑھ لاکھ ٹن پیداوار ہونے لگی۔ یہ پیداوار اسّی فیصد ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے کافی ہے۔

عمر کوٹ کا کنری تعلقہ اس سرخ انقلاب کا مرکز بن گیا۔ ایک ایکڑ پر ساٹھ سے ستر ہزار روپے خرچہ کر کے تین سے چار لاکھ روپے کی آمدنی ہونے لگی۔

مرچ کے لگ بھگ دس ہزار کاشت کار نہ صرف معاشی طور پر مضبوط دیہی متوسط طبقے میں شامل ہوگئے بلکہ چلی کاریڈور میں لگ بھگ اسّی ہزار ایکڑ پر کاشت ہونے والی سرخ مرچ نے اتنے ہی کوہلی، بھیل اور مسلمان مزارع خاندانوں کو بھی گود لے لیا۔

کہانی یونہی چلتی رہتی اگر اس سال اگست اور ستمبر نہ آتے جس علاقے میں بارش کی سالانہ اوسط پچاس ملی میٹر کے لگ بھگ تھی وہاں پندرہ سے بیس دن میں چھ سو ملی میٹر سے زائد پانی نازل ہوگیا۔

کپاس کی تیار فصل گئی، لہسن اور پیاز کی بوائی گئی اور کھیتوں سے توڑی جانے والی اسّی فیصد مرچ بھی گئی۔ اس وقت بھی ریڈ چلی کاریڈور میں اوسطاً تین سے چار فٹ پانی کھڑا ہے۔ آسان اردو میں اس کا مطلب یہ ہے کہ ربیع کا سیزن جو پندرہ اکتوبر سے شروع ہونا ہے وہ بھی ہاتھ سے پھسل رہا ہے۔

مزارعین سڑک پر نیلی پلاسٹک شیٹوں اور گھاس پھونس سے سر ڈھانپنے کی کوشش میں ہیں اور زمیندار دفتر در دفتر چکر لگا رہے ہیں تاکہ سرکار بھلے کچھ کرے نہ کرے، کھڑے پانی کی نکاسی ضرور کروا دے۔

زمیندار کہتے ہیں کہ دریائی سیلاب تو تازہ مٹی اور معدنیاتی اجزاء ساتھ لاتا ہے جن سے زمین زرخیز ہوتی ہے لیکن بارش کا کھڑا پانی صرف نمک پیدا کرتا ہے اور زمین بانجھ کرتا ہے۔

کنری کے مرچ کاشتکاروں کی انجمن کے سربراہ میاں محمد سلیم کے بقول گول سرخ مرچ کی قیمت ساڑھے سات ہزار روپے فی من سے بڑھ کر ساڑھے دس ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے اور ابھی یہ بارہ ہزار روپے تک جائے گی۔

پاکستان کو پہلی مرتبہ اپنی ضروریات کا ستر سے اسی فیصد بھارت سمیت دیگر ملکوں سے درآمد کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر حکومت تباہ حال زمینداروں کو بلا سود قرضے دے بھی دے تب بھی کمر سیدھی کرنے کے لئے دو سے تین برس درکار ہیں۔

کنری کی آڑھت منڈی نہ صرف سرخ گول مرچ بلکہ سونف اور اسپغول کی بھی سب سے بڑی منڈی ہے۔

جب میں وہاں پہنچا تو تین چار آڑھتیوں اور اجناس تولنے اور ڈھونے والے درجن بھر مزدوروں کے سوا کوئی نہ تھا۔

منڈی ایسوسی ایشن کے صدر محمد سعید نے بتایا ’بارش نے زمینداروں اور مزارعین کے ساتھ آڑھتی کو بھی دھو ڈالا۔ لگ بھگ بیس کروڑ روپے کا ایڈوانس ڈوب گیا۔ پچھلے برس ان دنوں میں منڈی چوبیس گھنٹے کھلی رہتی تھی۔ روزانہ بارہ ساڑھے بارہ ہزار بوری مرچ آتی تھی۔ اب دو سو سے بھی کم بوری آرہی ہے۔ ہماری اگلی امید مارچ اپریل میں آنے والی ڈھائی لاکھ من سونف کی فصل سے وابستہ ہوتی تھی۔ اس مرتبہ ہم مرچ سے توگئے مگر سونف اور اسپغول کی کاشت سے بھی گئے۔‘

ایسوسی ایشن کے سکریٹری مصور احمد بھٹی نے بتایا ’سندھ بیس لاکھ بوری سالانہ گول سرخ مرچ پیدا کرتا ہے۔ اس میں سے پچیس فیصد مال صرف کنری کی مرچ منڈی سے گزرتا ہے۔ باقی مال کاشتکار براہ راست خریدار کو بیچتا ہے۔اس بار ہمیں اس منڈی میں ایک لاکھ بوری مرچ بھی دیکھنا مل جائے تو بڑی بات ہوگی۔‘

ایسے حالات میں بھی کنری شہر کی پچاس ہزار کے لگ بھگ آبادی کی مصروفیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ عمرکوٹ کی چار تحصیلوں میں سب سے زیادہ بارش (چھ سو پینتالیس ملی میٹر) کنری میں ہوئی۔ اگرچہ قصبے کے تین اطراف اب بھی تین سے چار فٹ پانی ہے۔ سامارو سے نو کوٹ تک آس پاس کا ہر علاقہ زیرِ آب ہے مگر کنری شہر کے مکین خود کھڑے ہوگئے اور پانی کھڑا نہیں ہونے دیا۔

اردگرد کے علاقوں سے لگ بھگ دس ہزار پناہ گزین کنری آئے۔ جنہیں مقامی شہریوں نے اپنے گھروں سے لگ بھگ بیس روز تک دو وقت کا کھانا مہیا کیا۔ اب بھی چھبیس سکولوں اور مدارس میں پناہ گزیں ہیں مگرجو جانا چاہے اسے مہینے بھر کے راشن، نقدی اور ٹرانسپورٹ کے ساتھ رخصت کیا جارہا ہے۔

میں نے کنری میں پناہ گزینوں کی دیکھ بھال کرنے والے کئی نام سنے ۔ان میں ایک نام تکرار کے ساتھ آیا۔ حاجی نثار احمد۔

اس نوجوان کی ایک سالوینٹ فیکٹری ہے جسے اس وقت ریلیف سنٹر میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ پہلے دن کی شدید بارش میں دو دیگ چاول پک سکے لیکن بارش تھمتے ہی بات اسّی دیگوں تک پہنچ گئی۔

اب تک حاجی نثار اور ان کے دوست اپنے وسائل سے ایک کروڑ روپے کے لگ بھگ کھانے، ادویات اور ٹرانسپورٹ پر خرچ کرچکے ہیں اور کر رہے ہیں۔

شہر کی آرائیں ویلفیئر ایسوسی ایشن بھی یہی کررہی ہے۔ کنری کے اردگرد کا پانی پینے کے قابل نہیں رہا لہذاٰ جگہ جگہ ہینڈ پمپ لگائے جا رہے ہیں اور شہریوں کو جیری کینز میں پینے کا پانی مہیا کیا جارہا ہے۔

فوج نے کنری سے باہر چیل بند کے مقام پر ڈیڑھ ماہ گزرنے کے بعد تین دن پہلے ایک پناہ گزیں کیمپ قائم کر ہی دیا۔ ڈسٹرکٹ عمر کوٹ میں فوج کے زیرِ انتظام یہ پہلا کیمپ ہے۔ اہلِ کنری اس کی بھی مدد کررہے ہیں۔

اسی بارے میں