یروشلم میں نئی یہودی آبادکاری پر ہیلری کلنٹن کی تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گیارہ سو نئے مکانات مشرقی یروشلم میں گیلو کے مقام پر تعمیر کیے جائیں گے جس کے بعد یہاں تعمیر ہونے والے مکانات کی تعداد تین ہزار تک پہنچ جائے گی۔

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے اسرائیلی حکام کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں گیارہ سو مکانات کی تعمیر کے منظوری پر شدید تنقید کی ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ اقدام فلسطینیوں کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

ہلری کلنٹن نے فریقین سے کہا کہ وہ اشتعال انگیز کارروائیوں سے گریز کریں۔

’جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہم نے فلسطین اور اسرائیل دونوں سے طویل عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ ایسے کسی بھی فعل سے گریز کریں جو اعتماد کو کمزور کرے، خاص طور پر یروشلم کے معاملے میں۔‘

فلسطین کو براہِ راست مذاکرات کی پیش کش

عالمی اکثریت آزاد فلسطینی ریاست کی حامی

امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے اسرائیل کی جانب سے یروشلم کے مضافات میں یہودی آبادکاری کے نئے منصوبے کو امن مذاکرات کے لیے منفی عمل قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ اس منصوبے کو روک دیا جانا چاہیے۔

اسرائیل کی جانب سے اس اعلان پر مغربی طاقتوں نے بھی افسوس کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی اقدام سے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ اسرائیل کے براہِ راست مذاکرات بحال کرنے کی کوششوں کو دھچکا لگے گا۔

اسرائیلی نوآبادکاری کے نئے منصوبے کا اعلان ایسے وقت ہوا ہے جب چند دنوں پہلے ہی فلسطینی رہنماء محمود عباس نے اقوامِ متحدہ میں فلسطینی ریاست کے لیے مکمل رکنیت کی درخواست دی ہے۔

اسرائیل کی جانب سے گیارہ سو نئے مکانات مشرقی یروشلم میں گیلو کے مقام پر تعمیر کیے جائیں گے۔

مقبوضہ علاقوں میں یہودی آبادکاری کے نتیجے میں بسنے والے یہودیوں کی تعداد پانچ لاکھ نفوس تک پہنچ چکی ہے۔ یہ آباد کاری بین الاقوامی قوانین کے تحت غیرقانونی ہیں تاہم اسرائیل اس سے اختلاف کرتا ہے۔

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امریکی ثالثی کی کوششوں سے شروع کی جانی والی بات چیت غربِ اردن اور مشرقی یروشلم میں یہودی نو آبادکاری کے مسئلہ پر تعطل کا شکار ہوگئی تھی۔

یورپی یونین کی امور خارجہ کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے اسرائیلی نوآبادکاری کے منصوبے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کو فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو کے ساتھ اس مسئلہ پر اپنی اگلی ملاقات میں بات کریں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس سے امن مذاکرات کی کوششوں کو دھچکا لگے گا: ہلری کلنٹن

انہوں نے کہا ’انہیں (بنیامین نتن یاہو) کو ایسے اعلانات کا خاتمہ کرنا چاہیے اور زیادہ اہم یہ ہے کہ ایسی تعمیرات کو روکا جانا چاہیے۔ یہ غلط ہے کہ لوگوں کو ایک ایسے علاقے میں بسایا جائے جہاں سے انہیں مذاکرات میں معاملات طے ہونے کے بعد منتقل ہونا پڑے۔‘

برطانوی وزیرخارجہ ولیم ہیگ نے بھی اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ اپنے فیصلہ کو واپس لیں۔

انہوں نے کہا کہ نوآبادکاری بین الاقوامی قوانین کے تحت غیرقانونی ہے اور یہ عمل اعتماد کو ٹھیس پہنچاتا ہے جبکہ یہ امن کے مقاصد کے تحت حاصل کی گئی زمین کے اصولوں کے بھی منافی ہے۔

فلسطین کے اعلٰی مذاکرات کار صائب ارکات کا کہنا ہے کہ اسرائیلی کی جانب سے یہودی بستیوں کا تعمیر کا نیا منصوبہ دراصل چار رکنی ثالثی کمیٹی کی تجویز کو مسترد کرتا ہے۔

چار رکنی ثالثی کمیٹی کے ارکان امریکہ، یورپی یونین، روس اور اقوامِ متحدہ نے اسرائیل اور فلسطین سے کہا ہے کہ وہ امن مذاکرات بحال کریں اور اس کے لیے انہوں نے ایک ٹائم فریم بھی پیش کیا ہے۔

اسی بارے میں