واشنگٹن حملے کی سازش، امریکی گرفتار

ریموٹ کنٹرول طیارہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ رضوان فردوس حملے میں اس قسم کے طیارے استعمال کرنے والے تھے

ایک چھبیس سالہ مرد کو امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں پینٹاگون اور کیپٹل ہِل پر (جہاں دونوں ایوان کی عمارتیں واقع ہیں) بم حملہ کرنے کی سازش کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

رضوان فردوس کو ریاست میساچوسٹس کے شہر بوسٹن سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ان پر القاعدہ کو مواد فراہم کرنے کی کوشش اور امریکی فوجیوں پر حملوں کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق حملے کے اس منصوبے کے تحت ان اہداف پر دھماکہ حیز مواد سے لدے ہوئے ریموٹ کنٹرول طیاروں سے حملہ کیا جانا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کی یہ فوٹو ملزم نے حملے کی تیاری کے لیے کی تھی

رضوان فردوس کو ایف بی آئی نےخفیہ تفتیش کے بعدگرفتار کیا ہے۔ گرفتاری کا اعلان امریکی وزارت انصاف نے کیا اور بتایا کہ ایف بی آئی کے انڈر کور ایجنٹ کچھ عرصے سے رضوان فردوس سے رابطے میں تھے۔ ایجنٹوں نے اپنے آپ کورضوان فردوس کا حامی ظاہر کرتے ہوئے نہ صرف دستی بم، مشین گن اور سی فور دھماکہ خیز مواد فراہم کیا بلکہ ایک ریموٹ کنٹرول طیارہ بھی۔

ایف بی آئی کے مطابق رضوان فردوس کو یہ ساز و سامان ایک مخصوص کنٹینر میں رکھنے کے فوراً بعد گرفتار کیا گیا۔

رضوان فردوس نے نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی سے فزکس یعنی طبیات میں تعلیم حاصل کی۔ ان پر الزام ہے کہ وہ سنہ 2010 سے ’جہاد‘ کی منصوبہ بندی کرتے رہے ہیں۔

اگر قصوروار پایا گیا تو انہیں کو ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کو مدد کے جرم میں پندرہ سال تک کی سزا ہو سکتی ہے۔ اگر ان پر قومی دفاعی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کا جرم ثابت ہوا تو ان کو بیس سال قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں