خاتون کو کوڑوں کی سزا منسوخ

سعودی خواتین
Image caption سعودی عرب میں عورتوں کو گاڑی چلانے کی اجازت نہیں ہے

سعودی عرب کے بادشاہ نے عدالت کے اُس فیصلے کو منسوخ کردیا ہے جس میں عورتوں پر گاڑی چلانےکی پابندی کی خلاف ورزی کرنے والی ایک خاتون کو دس کوڑے مارنے کا حکم دیا گیا تھا۔

شاہ عبداللہ کے اقدام کا سرکاری طور پر اعلان تو نہیں کیا گیا لیکن یہ خبر ٹوئٹر پر ایک سعودی شہزادی کی ایک ٹوِیٹ سے معلوم ہوئی ہے۔

سعودی شہزادے الولید بن طلال کی بیوی شہزادی امیرہ الطویل نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ’اللہ کا شکر ہے کہ شیما کو کوڑوں کی سزا معطل ہو گئی۔ ہمارے محبوب بادشاہ کی بدولت۔ مجھے یقین ہے کہ سعودی عرب کی عورتیں اس سے بہت خوش ہوں گی‘

شیما نامی اس خاتون کو جولائی میں جدہ میں گاڑی چلانے پر سزا سنائی گئی تھی۔ عدالت نے یہ سزا سعودی شاہ کے اس اعلان کے صرف دو روز بعد سنائی تھی کہ سنہ دو ہزار پندرہ میں سعودی خواتین کو ووٹ کا حق حاصل ہو جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق عورتوں کی گاڑی چلانے پر پابندی کے سعودی قانون کی خلاف ورزی کے الزام میں دو اور خواتین کو اس سال عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

گزشتہ کئی مہینوں میں سعودی عرب کے کئی شہروں میں درجنوں خواتین نے گاڑی چلائی ہے۔ ان کا مقصد اس قانون کو چیلنج کرنا اور بادشاہ پر اس سلسلے میں ترمیم کے لیے دباؤ ڈالنا تھا۔

اسی بارے میں