القاعدہ کی ایرانی صدر کی تقریر پر تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نائن الیون کے واقعے میں منصوبے کے تحت دھماکے کیے گئے: احمدی نژاد

القاعدہ نے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ امریکہ میں نائن الیون حملوں کے حوالے سے سازشی نظریے پھیلا رہے ہیں۔

القاعدہ سے منسلک ایک آن لائن میگزین انسپائر نے ایرانی صدر کے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کی گئی تقریر کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دیا ہے۔

ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے کہا تھا کہ ایک انجینیئر کی حیثیت سے وہ مانتے ہیں کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی عمارتیں صرف جہاز ٹکرانے کے باعث منہدم نہیں ہو سکتیں۔

دس سال بعد بھی سازشی نظریات برقرار

انہوں نے کہا تھا کہ نائن الیون کے واقعے میں منصوبے کے تحت دھماکے کیے گئے ہیں۔

’ایران اور سازشی نظریے‘ کے نام سے لکھے گئے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ ایران نے اس نظریے کے سہارے’ دنیا بھر میں امریکہ سے نفرت کرنے والے لاکھوں مسلمانوں پر وار کیا ہے۔‘

اس مضمون کے مصنف کا کہنا ہے کہ ایران ’ جب ضرورت ہوتی ہے تو امریکہ کا ساتھی بن جاتا ہے۔‘

سنی فرقے کی شدت پسند تنظیم القاعدہ اور ایران جہاں پر شیعہ فرقے کی اکثریت ہے، دونوں اگرچہ امریکہ کی مخالفت کرتے ہیں تاہم ان دونوں کے مابین شدید فرقہ وارانہ کشیدگی پائی جاتی ہے۔

گزشتہ جمعرات کو جنرل اسمبلی میں ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کی اس تقریر کے دوران تیس سے زائد ممالک کے سفارت کار احتجاجاً واک آوٹ کر گئے تھے۔

اسی بارے میں