متنازع قوانین، انتخابی بائیکاٹ کی دھمکی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مصر میں انتخابات کا آغاز اٹھائیس نومبر سے ہونا ہے

مصر کی حزب مخالف کی سب سے بڑی سیاسی جماعت اخوان المسلمین سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے متنازع انتخابی قوانین میں مناسب تبدیلیاں نہ کیے جانے پر مجوزہ انتخابات کے بائیکاٹ کی دھمکی دے دی ہے۔

دریں اثناء امریکی سیکریٹری خارجہ ہلری کلنٹن نے مصر کی نگران فوجی حکومت سے کہا ہے کہ وہ ملک میں نافذ ایمرجنسی کا جلد از جلد خاتمہ کر دے۔

انتخابی قوانین کے تحت پارلیمان میں ایک تہائی مخصوص نشستوں پر سیاسی جماعتوں کی بجائے آزاد امیدوار منتخب ہوں گے۔

’اخوان المسلمین الیکشن لڑے گی‘

سیاسی اتحاد نے اپنے مطالبات تسلیم کرانے کے لیے فوجی حکومت کو اتوار تک کا وقت دیا ہے۔

واضح رہے کہ مصر میں انتخابات اٹھائیس نومبر کو منقعد ہونا ہیں اور ان انتخاب میں اخوان المسلمین فریڈم اور ایکوالٹی پارٹی مضبوط جماعتیں تصوّر کی جا رہی ہیں۔

مصر میں سینتیس سیاسی جماعتوں کے ایک اتحاد نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ’ہم اس وقت تک انتخاب میں شامل نہیں ہوں گے جس وقت تک انتخابی قوانین کی شق میں تبدیلی نہیں کی جاتی۔‘

وفد پارٹی کے سربراہ سید البداوی کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے کوئی مثبت ردعمل نہیں آیا تو وہ انتخاب کا بائیکاٹ کریں گے۔

تاہم اخوان المسلمین کے چند اہلکاروں نے بائیکاٹ کے موقف میں نرمی لاتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کرے گی۔

سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے مصر میں برسراقتدار فوجی کونسل سے مطالبہ کیا کہ سابق صدر حسنی مبارک کے دورِ حکمرانی میں طاقت کے غلط استعمال میں ملوث اہلکاروں پر آئندہ دس سال تک انتخاب میں حصہ لینے پر پابندی بھی لگائی جائے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے مصر میں فوجی حکومت پر زور دیا ہے کہ ملک میں نافذ ایمرجنسی کو جلد از جلد اٹھا لیا جائے۔ واشنگٹن میں مصری وزیر خارجہ محمد امر سے ملاقات کے بعد امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایمرجنسی قوانین کا فوری خاتمہ ضروری ہے۔

انھوں نے کہا کہ’ہم مصری حکومت کی حوصلہ افزائی کریں گے تاکہ وہ ملک میں ایمرجنسی کو جلد از جلد اٹھا لے، سپریم کونسل کا کہنا ہے کہ ایسا دو ہزار بارہ سے پہلے ممکن نہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ اس قانون کو جلد از جلد اٹھا لیا جائے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ قانون کی حکمرانی اور آزاد اور جمہوری انتخابات کے انعقاد کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔‘

اسی بارے میں