’اب طالبان سےنہیں، پاکستان سے مذاکرات ‘

افغان صدر حامد کرئی تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption افغان صدر نے کہا کہ امن مذاکرات کسی اور سے نہیں بلکہ پاکستان سے کرنے ہونگے

افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت اب طالبان سے مذاکرات نہیں کرے گی۔

یہ بات انہوں نے دارالحکومت کابل میں مذہبی رہنماؤں کے ایک اجلاس سے خطاب میں کہی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ سابق صدر برہان الدین ربانی کے قتل سے انہیں یقین ہوگیا ہے کہ اب اہم یہ ہے کہ پاکستان سے بات کی جائے۔

برہان الدین ربانی کو بیس ستمبر کو ایک خودکش بمبار نے ہلاک کیا تھا۔ اس شخص نے اپنے آپ کو طالبان کا امن ایلچی ظاہر کیا تھا۔

صدر کرزئی نے کہا کہ طالبان کے رہنما ملا عمر کہیں سے مل ہی نہیں رہے ہے۔’وہ کہاں ہیں؟ ہمیں طالبان شوری نہیں مل رہی ہے۔ کہاں ہے وہ ۔ایک شخض اپنے آپ کو طالبان شوری کا رکن ظاہر کرتے ہوئے آتا ہے، کہتا ہے کہ وہ ان کی طرف سے ایک پیغام لے کر آیا ہے۔ لیکن پھر وہ نہ اس کی تردید کرتے ہیں اور نہ ہی تصدیق۔لہذا اب ہم سوائے پاکستان کے کسی اور سے بات نہیں کر سکتے۔‘

انہوں نے کہا ’امن کے عمل میں دوسری طرف کون ہے؟ میرے پاس اس کا صرف یہ جواب ہے کہ امن مذاکرات میں دوسری طرف پاکستان ہی ہے۔‘

اس اجلاس کے موقع پر افغانستان کے علمائے دین کی قومی کونسل نے ایک بیان جاری کیا جس میں برہان الدین ربانی کی امن کے لیے کوششوں کو سراہا گیا اور ان کے قتل کی شدید مذمت کی گئی۔

اس سے پہلے صدر کرزئی نے ایک ٹیلی وژن انٹرویو میں کہا تھا کہ برہان الدین ربانی کے قتل کی ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تعلق پاکستان کے شہر کوئٹہ کے کچھ افراد سے ہے۔

پچھلے ہفتے سے امریکہ پاکستان پر سخت دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ شدت پسند گروپ حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرے اور امریکی فوجی سربراہ نے اس گروپ کو پاکستتانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کا ’بازو‘ بھی قرار دیا۔ پاکستان ان الزامات سے انکار کرتا ہے۔

اسی بارے میں