ہانگ کانگ: گھریلو ملازمین کی شہریت

ہانگ کانگ کے ہائی کورٹ کے باہر کا فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حکومت ہائی کورٹ کے فیصلے کا مطالعہ کررہی ہے

ہانگ کانگ ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے کہ فلپائن سے تعلق رکھنےوالی ایک گھریلو ملازمہ کو ہانگ کانگ میں مستقل شہریت کے لیے درخواست دینے کی اجازت ملنی چاہیے۔

ایوانجیلینا بناؤ ویلاجوس 1986 سے ہانگ کانگ میں رہ رہی ہیں اور ایک ملازمہ کے طور پر کام کرتی ہیں۔

ہائی کورٹ کے اس تاریخ ساز فیصلے سے ان ایک لاکھ سے زائد خواتین کو ہانگ کانگ میں مستقل شہریت کا حق مل سکتا ہے جو طویل عرصے سے یہاں رہائش پذیر ہیں لیکن انہیں شہریت حاصل کرنے کا حق نہیں ہے۔

ویلاجوس کے وکیل مارک ڈیلی کا کہنا ہے کہ محترمہ ویلاجوس ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے بے حد خوش ہیں۔ اس فیصلے کا مطلب ہے کہ اب ساری گھریلو ملازمین مستقل شہریت کے لیے درخواست دے سکتی ہیں۔

مارک ڈیلی نے بتایا کہ جب ہم نے ویلاجوس کو اس فیصلے کے بارے میں بتایا تو انکا کہنا تھا ’تھینک گاڈ‘۔

مارک ڈیلی نے بتایا کہے اس تاریخ ساز فیصلے کے دن بھی محترمہ ویلاجوس بدستور اپنے ملازمت پر تھیں۔

انکا کہنا تھا کہ ' آج کا دن اچھا دن ہے'۔

مارک ڈیلی کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کے لیے حکومت کے پاس اٹھائیس دن کا وقت ہے۔

حکومت کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ حکومت ہائی کورٹ کے فیصلے کا مطالعہ کر رہی ہے اور اپنا ردعمل جلد ہی دے گی۔

بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ گھریلو ملازمین کومستقل شہریت کا حق دینے سے حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی صحت، تعلم اور پبلک ہاؤنسنگ کی سہولیات متاثر ہوں گی۔

ہانگ کانگ میں رہنے والے غیر چینی افراد کو سات سال رہنے کے بعد متسقل شہریت کا حق حاصل ہے لیکن گھریلو ملازمین کو یہ حق حاصل نہیں ہے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور گھریلو ملازمین کا کہنا ہے کہ ملک کا یہ قانون امتیاز پر مبنی ہے۔

مستقل شہریت ملنے کا مطلب ہے کہ یہ ہو گا کہ لوگ ہمیشہ کے لیے ہانگ کانگ میں رہ سکتے ہیں اور اس کے علاوہ ووٹ ڈالنے اور انتخابات میں کھڑے ہونے کا بھی حق انہیں حاصل ہو جائے گا۔

مشن فار مائیگرینٹ ورکر نامی تنظیم کے پروگرام اوفیسر نارمین کارنے نے ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے ’ہمیں امید ہے کہ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ گھریلو ملازمین کے لیے مساوی سلوک کی راہ ہموار کرے گا‘۔

ایک اندازے کے مطابق ہانگ کانگ میں تین لاکھ سے زائد گھریلو ملازمین ہیں جن میں سے بیشتر کا تعلق انڈونیشیا اور فلپائن سے ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد ملازمین کو یہاں رہتے ہوئے سات سال سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے۔

اسی بارے میں