الجزیرہ کے سربراہ کے استعفٰی کے عوامل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وداہ خنفر کے بقول انہوں نے ٹی وی سٹیشن رضاکارانہ طور پر چھوڑا ہے۔

بیس ستمبر کو الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل کے ڈائریکٹر جنرل وداہ خنفر نے آٹھ برس بعد اچانک استعفٰی دے دیا اور انہوں نے اپنے فیصلے کی کوئی وجہ بھی بیان نہیں کی۔

ان کے استعفٰے کے بعد جیسا کہ عموماً ہوتا ہے، افواہوں کا بازار گرم ہوگیا جو آج تک گرم ہے۔

اکثر مبصرین کا کہنا ہے کہ وداہ خنفر کا فیصلہ بالکل اچانک تھا۔ وہ چینل کے ایک کامیاب سربراہ تصور کیے جاتے تھے کیونکہ اپنے آٹھ سالہ دور کے دوران انہوں نے الجزیرہ ٹی وی کو دنیا کے بہترین چینلوں کی صف میں لاکھڑا کیا تھا۔

تاہم قطر میں شاہی محل کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے استعفٰی کی توقع کئی دنوں سے کی جا رہی تھی لیکن چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ ان کی جگہ قطر کے شاہی خاندان کے ایک شہزادے کو تعینات کیا گیا ہے جو ایک گیس کمپنی میں ایگزیکیٹو تھے اور بظاہر ان کا صحافت کے میدان میں کوئی تجربہ نہیں ہے۔

اپنے استعفٰی کے بعد وداہ خنفر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے ٹی وی چینل رضاکارانہ طور پر چھوڑا ہے۔ حالانکہ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ بے شک شاہی خاندان نے ان سے کہا تھا کہ وہ استعفٰی دیں۔ ان کے استعفٰے کے بعد الجزیرہ کے سٹاف کے کئی اہم اراکین نے بھی حالیہ دنوں میں ٹی وی سے استعفٰی دے دیا ہے۔

وداہ خنفر کے استعفٰے کی کئی وجوہات سامنے آ رہی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ قطر کے امیر کی کوشش تھی کہ ٹی وی نیٹ ورک کو اخوان المسلمون کے تسلط سے واپس لیا جائے جس سے وداہ خنفر کو بھی منسلک کیا جاتا رہا ہے۔

وداہ خنفر کے استعفٰی کا اعلان اس وقت کیا گیا جب قطر کے امیر شیخ حماد بن خلیفہ الثانی نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کرنے گئے ہوئے تھے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وداہ خنفر کے استعفٰے سے امیرِ قطر نے واشنگٹن کو یہ پیغام دیا ہے کہ اب انہوں نے چینل پر اپنا تسلط جما لیا ہے اور اب وہ فلسطین کے بارے میں متنازع ووٹنگ کے سلسلے میں امریکہ مخالف جذبات کو ٹھنڈا کر سکتے ہیں۔

الجزیرہ اور قطر کے شاہی خاندان کے درمیان تعلقات ہمیشہ کشیدہ ہی رہے ہیں۔ الجزیرہ نے ویسے تو قطر کی سیاسی اور معاشی چھتری تلے ہی کام کیا ہے لیکن نیٹ ورک کے نقادوں کا کہنا ہے کہ ان دونوں کے درمیان گہرے تعلقات تھے اور الجزیرہ قطر کے امیر کی حکومت کا بازو بن گیا تھا لیکن چینل کے ترجمان ہمیشہ اس الزام کی تردید کرتے رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption الجزیرہ اور قطر کے شاہی خاندان کے درمیان تعلقات ہمیشہ کشیدہ ہی رہے ہیں۔

تاہم جو بات واضح ہے وہ یہ کہ اس چینل کی ظاہری شکل قطر کے اپنے ایجنڈے کی عکاس تھی۔ ایک ایسا ملک جس کی خارجہ پالیسی کو کہا جاسکتا ہے کہ ایک ہی وقت میں سب کو ساتھ لے کر چلنے کی ایک نازک کوشش۔ الجزیرہ کی شروع سے ہی کھلی پالیسی رہی ہے اور اس کا موٹو تھا ’دی اوپینین اینڈ دی اپوزنگ اوپینین‘ یعنی رائے اور اختلافِ رائے۔

خلیج میں قطر ایسا واحد ملک ہے جس کے اسرائیل کے ساتھ برائے نام تعلقات ہیں جبکہ الجزیرہ پہلا عرب چینل ہے جس نے اسرائیلیوں کو بغیر سنسر کے آواز اٹھانے کی اجازت دی۔ قطر کا عرب اور مسلم دنیا میں جن میں لبنان، دارفور، یمن، اور لیبیا شامل ہیں ایک اہم سیاسی اور سفارتی کردار ہے جبکہ الجزیرہ نے ان تمام گڑبڑ والے علاقوں میں اپنی توجہ مرکوز رکھی۔

لیکن جیسے جیسے الجزیرہ کا اثر و رسوخ بڑھنے لگا، قطر کے علاقائی معاملات بھی پیچیدہ ہوتے چلے گئے خاص طور پر لیبیا میں جہاں امیرِ قطر نے قذافی مخالف گروہوں میں سے ایک کی حمایت کی اور بحرین میں جہاں انہوں نے مظاہروں کو کچلنے کے لیے مارچ میں فوج بھی بھیجی۔

جب امیرِ قطر نے مشرقِ وسطٰی کے معاملات میں دلچسپی ظاہر کرنا شروع کی تو چینل کا اثر و رسوخ امیر کے معاملات پر حاوی ہونے لگا اور یہ سمجھا جانے لگا کہ یہ چینل دو دھاری تلوار ہے جہاں آ کر کوئی بھی کچھ بھی بول سکتا ہے۔

مغربی افکار کے برعکس قطر کے امیر نہ ہی مغرب زدہ ہیں اور نہ ہی جمہوریت پسند بلکہ وہ ان دونوں کی درمیانی راہ پر گامزن ہیں جو چاہتے ہیں کہ ایک ہی وقت میں وہ اپنی ریاست کو اسلامی اصولوں پر کاربند کریں اور بین الاقوامی حالات سے بھی نبردآزما ہوسکیں۔

ان کی پہلی ترجیح ہمیشہ قطر کی سلامتی رہی ہے اور یہی وجہ تھی کہ انہوں نے الجزیرہ کو قائم کیا تھا۔ کئی دیگر عربوں کی طرح وہ بھی مشرقِ وسطٰی میں امریکی پالیسیوں کو علاقائی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتے ہیں لہذٰا واشنگٹن پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنا ان کا ایک اہم مقصد رہا ہے جو قطر جیسے چھوٹے ملک کے لیے ایک بڑا چیلنج بھی ہے۔

تاہم الجزیرہ چینل کی وداہ خنفر کی نگرانی میں بے باک قسم کی کوریج بین الاقوامی ردعمل کو اشتعال دلانے کے لیے ایک اہم ذریعہ رہا ہے۔

اب یہ محسوس ہوتا ہے کہ قطر کے امیر نے تبدیلی لانے کی قوت رکھنے والے الجزیرہ کے گھوڑے کو جو بہت تیزی سے بے قابو ہوتا جارہا تھا نکیل ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ اب اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ الجزیرہ کا سربراہ کون ہوتا ہے، اب نہ ہی وقت کو واپس لایا جاسکتا اور نہ ہی معلومات کے جن کو بوتل میں دوبارہ بند کیا جاسکتا ہے۔

اسی بارے میں