فلسطینی رکنیت: آیت اللہ خامنہ ای کی تنقید

Image caption اسرائیل اور فلسطین میں براہِ راست مذاکرات ستمبر سنہ دو ہزار دس سے تعطل کا شکار ہیں

ایران کے رہبرِ اعلٰی آیت اللہ خامنہ ای نے فلسطینی صدر محمود عباس کی جانب سے فلسطین کو اقوامِ متحدہ کی مکمل رکنیت دیے جانے کی درخواست پر تنقید کی ہے۔

تہران میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ فلسطین کی جانب سے اقوامِ متحدہ کو دی جانے والی درخواست جس میں فلسطین ریاست کی سنہ انیس سو سڑسٹھ سے پہلے والی سرحدوں کی حمایت کرنے کی استدعا کی گئی ہے کا مطلب اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنا ہے۔

ان کا اصرار تھا کہ تمام متنازعہ علاقے کا تعلق فلسطینیوں سے ہونا چاہیے۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے فلسطین کی جانب سے رکنیت کی درخواست پر غور کرنا ہے تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینی درخواست کو ویٹو کرے گا۔

اس سے پہلے فلسطینی صدر محمود عباس نے اقوامِ متحدہ میں فلسطین کو باقاعدہ ریاست کا درجہ دینے کی درخواست جمع کرائی تھی۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے جنرل اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل پر زور دیا تھا کہ وہ فلسطین ریاست کی سنہ انیس سو سڑسٹھ سے پہلے والی سرحدوں کی حمایت کرے۔

اس سے پہلے مشرقِ وسطٰی کے چار رکنی ثالثی گروپ نے اسرائیل اور فلسطین سے اپیل کی تھی کہ وہ امن مذاکرات ایک ماہ کے اندر بحال کریں اور سنہ دو ہزار بارہ کے آخر تک کسی نتیجے پر پہنچیں۔

اسرائیل اور فلسطین میں براہِ راست مذاکرات ستمبر سنہ دو ہزار دس سے تعطل کا شکار ہیں۔ ان مذاکرات کا فلسطینیوں نے مقبوضہ غربِ اردن میں یہودی نوآبادی کی تعمیرات کے خلاف احتجاج کے طور پر بائیکاٹ کیا تھا۔

اسی بارے میں