حقانی نیٹ ورک کے اہم رہنماء حراست میں

Image caption حقانی گروپ پر الزام ہے کہ وہ افغانستان میں حالیہ حملوں میں ملوث ہے۔

افغانستان میں تعینات اتحادی افواج ایساف کا کہنا ہے کہ انہوں نے حقانی نیٹ ورک کے ایک سینئر رہنماء حاجی مالی خان کو گرفتار کر لیا ہے۔

ایساف کے مطابق منگل کو صوبۂ پکتیا میں افغان اور اتحادی افواج کے مشترکہ آپریشن کے دوران انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔

اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے جانے کے وقت وہ مسلح تھے تاہم انہوں نے مزاحمت نہیں کی۔

حاجی مالی خان حقانی نیٹ ورک میں ایک سینئر رہنماء ہیں۔ حقانی گروپ پر الزام ہے کہ وہ افغانستان میں حالیہ حملوں میں ملوث ہے جبکہ اس کے پاکستان کے ساتھ بھی رابطے ہیں جس کی پاکستان نے تردید کی ہے۔

حاجی مالی خان حقانی گروپ کے سرکردہ رہنماء سراج حقانی کے رشتہ دار بھی ہیں اور وہ حقانی اور بیت اللہ محسود گروپ کے درمیان بھی ایلچی کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ بیت اللہ محسود پاکستانی طالبان کے سربراہ تھے جو ایک ڈرون حملے میں سنہ دو ہزار نو میں ہلاک ہوگئے تھے۔

حاجی مالی خان کو ایسے وقت حراست میں لیا گیا ہے جب کچھ روز قبل ہی سابق افغان صدر اور مذاکرات کار برہان الدین ربانی کو ایک حملے میں ہلاک کیا گیا اور ان کی ہلاکت کا الزام حقانی نیٹ ورک پر عائد کیا جارہا ہے۔

برہان الدین ربانی کی ہلاکت کے بعد افغان صدر حامد کرزئی کو جمعہ کو کہنا پڑا تھا کہ اب بات چیت کے لیے ان کی توجہ طالبان کے بجائے پاکستان کی جانب مرکوز ہوگی۔

گزشتہ ہفتے امریکی فوج نے پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے کابل میں ہونے والے حالیہ حملے میں حقانی نیٹ ورک کی مدد کی تھی جس کی پاکستان نے سختی سے تردید کی تھی۔

حقانی نیٹ ورک کے پاکستان کے ساتھ رابطوں کے الزامات کے بعد پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی آ چکی ہے۔

امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا کا کہنا ہے کہ پاکستان کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کے سلسلے میں انتخاب کا آپشن موجود نہیں ہے۔

ادھر امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین ایڈمرل مائیک مولن کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی کو حقانی گروپ سے اپنے تمام رشتے توڑنے ہوں گے۔

اسی بارے میں