ہالینڈ: ’بھنگ کی فروخت پر پابندی‘

کوفی
Image caption یہ پابندی صرف بعض سیاحوں پر عائد کی گئی ہے

ہالینڈز کے ایک شہر ماسٹ رِخت کی کافی شاپس میں مقامی، بیلجیم اور جرمنی کے شہریوں کے علاوہ تمام غیر ملکی سیاحوں کو نشے کی فروخت پر پابندی کا اطلاق ہو گیا ہے۔

ماسٹ رِخت میں اہلکاروں کا کہنا ہے کہ کافی کی دکانوں میں کم نشہ آور بھنگ خریدنے والے افراد کے ہجوم سے شہر میں ٹریفک کا نظام خراب ہو رہا تھا۔

کافی شاپس کے مالکان کا کہنا ہے کہ پابندی زیادہ عرصے برقرار نہیں رہ سکے گی کیونکہ اس سے مقامی معیشت متاثر ہو گی۔

پابندی کا اطلاق جرمنی اور بیلجیئم سے آنے والے سیاحوں پر نہیں ہو گا کیونکہ ماسٹ رِخت میں زیادہ تر سیاح ان دو ممالک سے آتے ہیں۔

بی بی سی کی نامہ نگار اینا ہولیگن کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے یہ پابندی ایک تجرباتی طور پر عائد کی گئی ہے اور اگر یہ کامیاب ہوتی ہے تو اس کو ملک کے دیگر شہروں اور قصبوں میں بھی نافذ کر دیا جائے گا۔

ہالینڈ میں سو کے قریب ایسی کافی شاپس ہیں جہاں پر کم نشہ آور بھنگ کی فروخت کوئی جرم نہیں ہے۔

ایک اندازے کے مطابق ماسٹ رِخت میں روزانہ چھ ہزار سے زیادہ سیاح آتے ہیں۔

شہر میں سیاحوں کے پاسپورٹ اور شناختی کارڈز چیک کرنے کے لیے سکیورٹی سکینرز لگائے گئے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ پابندی یورپی یونین میں برابری کے حق اور شہریوں کے آزادی سے گھومنے کی پالیسی کے خلاف ہے۔

ماسٹ رختِ میں ایسوسی ایشن آف آفیشل کوفی شاپش کے چیئرمین مارک جوزمین کا کہنا ہے کہ پابندی سے فائدے کی بجائے اُلٹا نقصان ہو گا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’جو سیاح بھنگ خریدنے آتے ہیں انہیں اگر یہاں انہیں بھنگ نہیں ملے گی تو وہ غیر قانونی طریقے سے خریدیں گے اور اس سے پریشانیاں زیادہ بڑھیں گی اور جرائم کو بھی فروغ ملے گی۔‘

اسی بارے میں