انڈونیشیا:’لاپتہ تمام اٹھارہ مسافر ہلاک‘

فائل فوٹو
Image caption انڈونیشیا میں ایوی ایشن کا ریکارڈ کچھ اچھا نہیں ہے

انڈونشیا میں حکام نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کو ایک مسافر بردار ہوائی جہاز کے حادثے میں لاپتہ ہونے والے اٹھارہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں چار بچے بھی شامل ہیں۔

جہاز نے ریڈار سے لاپتہ ہونے سے پہلے کنٹرول ٹاور کو ایمرجنسی سگنل بھیجا تھا تاہم ابھی حادثے کی وجوہات کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا ہے۔

طیارے میں اٹھارہ افراد سوار تھے اور یہ جمعرات کو ملک کے مغربی علاقے سماٹرا پر پرواز کے دوران لاپتہ ہو گیا تھا۔

تاہم علاقے میں خراب موسم کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیش آ رہی تھی۔

سنیچر کو امدادی ٹیم کے سربراہ سنارباوؤ نے ٹیلی ویژن کو بتایا کہ حادثے کے مقام سے ہوائی جہاز میں سوار تمام اٹھارہ افراد کی لاشیں مل گئی ہیں۔

انڈونیشیا: جہاز پرواز کے دوران لاپتہ

انڈونیشیا میں وزارتِ ٹرانسپورٹ کے ترجمان کے مطابق CASA C-212 جہاز سماٹرا سے صوبہ آچے کی جانب ایک گھنٹے کی پرواز پر تھا۔

انڈونیشیا کی جغرافیائی صورتحال کے باعث زیادہ تر انحصار فضائی سفر پر کیا جاتا ہے۔ ملک میں تقریباً 18000 جزیرے ہیں جن تک رسائی بذریعہ جہاز ہی ممکن ہے۔ لیکن یہاں ایوی ایشن کا ریکارڈ کچھ اچھا نہیں ہے۔

مئی میں انڈونیشیا کے ایک مسافر طیارے کے حادثے میں ستائیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ یہ طیارہ مشرقی صوبہ مغربی پاپوا کے قریب سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

اس سے قبل یورپ نے اپنی فہرست سے انڈونیشیا کی چار ائر لائنز کی پروازوں کوخارج کیا تھا جن میں گرودا، منڈالا، ایئر فاسٹ انڈونیشیا اور پریمیئر ائر لائنز شامل ہیں۔ یورپ کے مطابق ان ائر لائنوں میں بہتری لانے کی ضرورت تھی۔

اسی بارے میں