برہان الدین ربانی کا قاتل پاکستانی شہری تھا: افغانستان

Image caption سابق صدر برہان الدین ربانی طالبان اور افغان حکومت کے مابین مصالحت کرانے کی کوشش کر رہے تھے

افغان صدر کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق سابق افغان صدر برہان الدین ربانی کو ہلاک کرنے والا خود کش حملہ آور پاکستان کا شہری تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ شہادتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر برہان الدین ربانی کے قتل کی سازش پاکستانی شہر کوئٹہ میں تیار کی گئی۔.

برہان الدین ربانی افغان حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات کرانے کی کوشش کر رہے تھے کہ بیس ستمبر کو انہیں ایک خود کش حملہ آور نے ہلاک کر دیا۔

الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ برہان الدین کے قتل میں حقانی نیٹ ورک ملوث ہے۔ امریکی اہلکار پاکستان پر الزام لگاتے ہیں کہ حقانی نیٹ ورک پاکستان ادارے آئی ایس آئی کی زیر نگرانی کام کرتا ہے۔

افغانستان کی وزارت خارجہ کی ترجمان جانان موسٰی زئی کے مطابق افغان حکومت کا ایک وفد بہت جلد پاکستان جا کر امن منصوبے اور سابق افغان صدر برہان الدین ربانی کے قتل میں پاکستان کے ملوث ہونے کے الزامات پر بات کرے گا۔

افغانستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان جانان موسٰی زئی کے مطابق ممکن ہے کہ یہ وفد اتوار کی رات ہی پاکستان جائے۔

افغانستان نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ وعدے کے مطابق اپنا اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے طالبان شدت پسندی کو ختم کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرے۔

’اب طالبان سےنہیں، پاکستان سے مذاکرات ‘

افغانستان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے یہ بیان افغان صدر حامد کرزئی کے بیان کے ایک روز بعد آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ طالبان کے بجائے اب پاکستان سے مذاکرات کی ضرورت ہے۔

یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ افغان حکام ملک میں جاری جنگ کے خاتمے میں آخری رکاوٹ کو دور کرنے اور شدت پسندوں کی سرحد پار پاکستان میں محفوظ پناہ گاہوں سے نمٹنے کی قابل نہ ہو سکنے کے باعث جھنجھلاہٹ کا شکار ہیں۔

حالیہ ہفتوں کے دوران امریکہ اور افغانستان کی جانب سے کھلے عام پاکستانی حکومت پر افغانستان میں جاری شورش اور اعلی شخصیتوں پر حملوں کی پشت پناہی کا الزام عائد کرنے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے پہلے سے کشیدہ تعلقات مزید تناؤ کا شکار ہوئے ہیں۔

افغان وزاتِ خارجہ کے ترجمان جانان موسٰی زئی نے کابل میں اخباری نمائندوں کو بتایا ’افغانستان نے گذشتہ تین برسوں کے دوران پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے اور اعتماد کی فضا قائم کرنے کے لیے بہت کوششیں کیں۔ بدقسمتی سے ہمیں اُس طرح کی ٹھوس پیش رفت حاصل نہیں ہوئی جس کی ہم توقع کر رہے تھے اور جس کا ہمارے پاکستانی بھائیوں اور بہنوں نے ہم سے وعدہ کیا تھا۔‘

اس کے نتیجے میں افغان صدر حامد کرزئی نے پاکستان، افغانستان اور امریکہ کے درمیان سہہ فریقی ملاقاتیں بھی ملتوی کر دیں۔

موسٰی زئی کا کہنا تھا کہ ’جب ہم ٹھوس پیش رفت کی مثال دیتے ہیں تو ہم چاہتے ہیں کہ ایسی طالبان قیادت یا کسی بھی شدت پسند رہنما کے ساتھ براہ راست مذاکرات ہوں جو افغانستان میں قومی مفاہمتی عمل میں شامل ہونے کو تیار ہو۔‘

اسی بارے میں