سرت سے شہریوں کا انخلاء

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شہر کے باہر جانے والے راستوں پر سینکڑوں گاڑیوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔

لیبیا میں کرنل معمر قذافی کے جائے پیدائش سرت کو شہری قافلوں کی صورت میں چھوڑ رہے ہیں جسے عبوری حکومت کے جنگجوؤں نے گھیرے میں لے رکھا ہے۔

شہر کے باہر جانے والے راستوں پر واقع چیک پوائنٹس پر سینکڑوں گاڑیوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں جن میں لوگوں نے اپنا ضروری سامان رکھا ہوا ہے۔

عبوری حکومت کے جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ وہ شہر سے مقامی لوگوں کے نکلنے کا انتظار کررہے ہیں جس کے بعد شہر پر آخری اور بھرپور حملہ کیا جائے گا۔

اُدھر سرت میں ریڈ کراس کی ایک ٹیم موجود ہے جس کا کہنا ہے کہ شہر میں طبی امداد کی اشد ضرورت ہے۔

سرت دو بڑے شہروں میں سے ایک ہے جن پر عبوری حکومت کے جنگجوؤں کا اب تک تسلط قائم نہیں ہوسکا ہے جبکہ کرنل قذافی کے بارے میں بھی اب تک کوئی اطلاع نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔

اتوار کو بڑی تعداد میں کاریں، بسیں، اور ٹرک جن پر گھریلو سامان لدا ہوا ہے سرت کے خارجی راستوں پر عبوری حکومت کے چیک پوائنٹس پر کھڑے تھے۔

سرت سے نکلنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر میں حالات اس حد تک خراب ہوچکے ہیں کہ وہاں اب خوراک بہت کم رہ گئی ہے جبکہ بجلی اور پانی نہیں ہے۔

اپنی اہلیہ، ساس اور دو بچوں کے ہمراہ سفر کرنے والے احمد حسین نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا ’ہمیں شہر چھوڑنا ہی تھا لیکن شیلنگ کے باعث ہم اپنے گھروں سے نکل نہیں پا رہے تھے۔‘

ایک اور شہری علی کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ اس لیے شہر چھوڑنا پڑا کہ وہ نیٹو کی جانب سے بمباری اور جنگجوؤں کی جانب سے شلنگ کے درمیان پھنس کر رہ گئے تھے۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا ’نیٹو خاص طور پر جو بمباری کررہی ہے اس سے اکثر شہریوں کی عمارتیں نشانہ بن جاتی ہیں۔‘

ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ دس ہزار کے قریب افراد سرت چھوڑ چکے ہیں جن میں سے ایک تہائی نے شہر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر صحرا میں کیمپ قائم کرلیے ہیں کیونکہ وہ اپنے گھروں سے بہت دور نہیں جانا چاہتے۔

اس کا کہنا ہے کہ شہر کے اہم ہسپتالوں میں آکسیجن اور ایندھن کی شدید قلت کی وجہ سے لوگ مررہے ہیں۔

فریقین کی جانب سے کلیئرنس ملنے کے بعد ریڈ کراس کی ٹیم نے ہفتہ کو شہر کے ابنِ سیما ہسپتال کا دورہ کیا تھا۔ ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں مریضوں کی بڑی تعداد ہے جبکہ طبی سامان ختم ہورہا ہے اور آکسیجن کی اشد ضرورت ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پانی کے ذخائر کو نقصان پہنچ چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہ سرت ائرپورٹ کا وی آئی پی لاؤنج ہے۔ ائرپورٹ پر جنگجوؤں نے قبضہ کرلیا ہے۔

ریڈ کراس کی ترجمان صوعاد مسعودی نے بی بی سی کو بتایا ’ہم نے جنگ میں زخمی ہونے والوں کے لیے میڈیکل کِٹ فراہم کیں ہیں، میرا مطلب ہے کہ یہ وہ طبی سامان ہے جو جنگ میں زخمی ہونے والوں کا آپریشن کرنے کے کام آتا ہے اور یہ دو سو زخمیوں کے لیے کافی ہوتا ہے۔

تاہم یہ ٹیم ہسپتال کے وارڈوں میں موجود مریضوں تک نہیں جاسکی کیونکہ اسی لمحے یہ ہسپتال فائرنگ کی زد میں آگیا تھا۔

عبوری حکومت کی جانب سے کئی ہفتوں پہلے شروع کیے جانے والے حملوں کے بعد سے کرنل قذافی کی حامی فوجوں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔

جمعہ کو عبوری حکومت کے جنگجوؤں نے ائرپورٹ پر قبضہ کرلیا تھا اور اب وہ شہر میں داخل ہونے کے لیے مربوط حملے کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

سرت کے مضافات میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جانتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ سرت پر مکمل قبضہ کرنے کے بعد دیکھا جائے گا کہ کیا اب عبوری حکومت کا پورے لیبیا پر تسلط قائم ہوگیا ہے یا نہیں۔

سرت کے بعد ایک اور شہر بنی ولید کرنل قذافی کی حامی فوجوں کا گڑھ رہ جائے گا جہاں سے عبوری حکومت کے جنگجوؤں کو مزاحمت کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں