نیویارک، سات سومظاہرین گرفتار

وال سٹریٹ احتجاج کی فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption احتجاجیوں کا کہنا کہ حکومت بڑے صنعت کاروں کے فائدے کے بارے میں سوچتی ہے

امریکی شہر نیویارک میں پولیس نے شہر کے اقتصادی علاقے میں ’وال سٹریٹ پر قبضہ کرو‘ مہم چلانے والے سات سو سے زائد احتجاجی مظاہرین کو گرفتار کرلیا ہے۔

گزشتہ دو ہفتوں سے مظاہرین نے نیویارک کے معاشی سرگرمیوں والے علاقے سٹریٹ جنرل پر ’وال سٹریٹ پر قبضہ کرو‘ کے نام پر دھرنا دیا ہوا ہے۔احتجاج کرنے والوں میں اکثریت نوجوانوں کی ہے۔

اس احتجاج کو مصر اور تیونس سمیت عرب دنیا کے مختلف ممالک میں شروع ہونے والی احتجاجی لہر طرز پر امریکہ کا اپنا اسپرنگ کہا جا رہا ہے۔

کارپوریٹ لالچ، بنکوں کی مبینہ لوٹ کھسوٹ، بے گھری اور بیروزگاری جیسے مسائل کے خلاف بیروزگار اور بے گھر امریکی گذشتہ سترہ ستمبر سے وال سٹریٹ پر احتجاج کر رہے ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ مظاہرین نے وال سٹریٹ پر ایک احتجاجی شہر آباد کیا ہوا ہے۔

ایک مقامی صحافی نے بتایا کہ آس پاس موجود کھانے پینے کی دکانوں پر نیویارک کے کئي لوگ اپنے کریڈٹ کارڈ نمبر تک دے کر گۓ ہوئے ہیں کہ احتجاج میں شامل نوجوانوں کو کھانا پینا دیا جائے۔

سنیچر کی شام سینکڑوں احتجاج کرنے والوں نے وال اسٹریٹ سے لوئر مینہیٹن کی طرف بروکلین برج پر مارچ کرنا شروع کیا تھا۔ پولیس نے ٹریفک میں خلل ڈالنے کے الزام میں سات سو کے قریب مظاہرین کو گرفتار کرلیا ہے۔

یہ گرفتاریاں شام تک جاری رہیں۔ مظاہرین اور پولیس کی بڑی تعداد ایک دوسرے کے سامنے آئی اور پولیس نے مظاہرین کو بیچ روڈ پر چلنے کے بجائے فٹ پاتھ پر چلنے کو کہا۔ سینکڑوں مظاہرین کے خلاف سخت کاروائی کرتے ہوئے سات سو افراد کو گرفتار کرلیا۔

پولیس کا موقف ہے کہ یہ لوگ کھلی سڑک پر آکر ٹریفک میں رخنہ ڈال رہے تھے۔

موقع پر موجود امریکی وکلاء تنظییم نیشنل لائرز گلڈ کی وکیل بینا احمد کا کہنا تھا کہ مظاہرین کو پولیس نے سڑکوں پرگھسیٹا جس سے کئی زخمی ہوگئے۔ نیویارک پولیس کی ڈپٹی کمشنر نے اسکی تردید کی۔

وال اسٹریٹ پر ہزاروں کی تعداد میں پولیس تعینات کر ی گئي ہے۔ گذشتہ دو ہفتوں سے پولیس کے ساتھ مظاہروں اور دھرنوں کے دوران مظاہرین کے ساتھ پکڑ دھکڑ جاری ہے۔

نیویارک کے مالیاتی دماغ وال اسٹریٹ پر دھرنے والی اس تحریک کی دلچسپ بات یہ ہے کہ اسکے پہلے دن نیویارک کے میئر بلومبرگ نے بیان دیا تھا ’ہمارے نوجوان کالجوں سے گریجوئٹ ہو کر نکل رہے ہیں جن کے لیے روزگار نہیں ہے اور ہم جو اس بہار مصر تیونس اور مشرق وسطیٰ کے ممالک میں جو سماجی غصّہ دیکھتے رہے تھے وہ اب ہماری گلیوں میں امڈ آیا ہے۔‘

اسی بارے میں