افغان خواتین کے حقوق کو خطرہ: ایکشن ایڈ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption افغانستان میں کئی خواتین اب بھی بنیادی حقوق سے محروم ہیں: ایکشن ایڈ

برطانیہ کے دو فلاحی اداروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں گزشتہ دس برس کی پیش رفت کے بعد اب خواتین کے حقوق کو خطرہ ہے۔

آکسفیم اور ایکشن ایڈ کا کہنا ہے کہ افغان خواتین اس بات سے پریشان ہیں کہ طالبان سے ممکنہ سیاسی مصالحت ہونے کے بعد اب تک کی گئی پیش رفت کی قربانی دینی پڑ سکتی ہے۔

ایکشن ایڈ کی جانب سے ایک ہزار افغان خواتین سے کیے گئے سروے کے مطابق چھیاسی فیصد خواتین طالبان طرز کی حکومت کے ممکنہ قیام سے پریشان ہیں۔

ایکشن ایڈ کا کہنا ہے اب بھی افغان خواتین کو بنیادی حقوق نہیں دیے جارہے ہیں اور انہیں افغانستان میں بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ سروے میں معلوم ہوا ہے کہ بہتّر فیصد خواتین یہ محسوس کرتی ہیں کہ سنہ دو ہزار ایک میں افغانستان میں لڑائی شروع ہونے کے بعد سے اب ان کے لیے حالات بہتر ہوئے ہیں۔

تاہم سینتیس فیصد نے اس خوف کا اظہار کیا ہے کہ بین الاقوامی فوج کے انخلاء کے بعد افغانستان کے حالات دوبارہ خراب ہوجائیں گے۔

دو تہائی افغان خواتین کا کہنا ہے کہ وہ دس سال پہلے کی نسبت اب اپنے آپ کو زیادہ محفوظ تصور کرتی ہیں۔

ایکشن ایڈ کا کہنا ہے ’خواتین کو تعلیم حاصل کرنے اور کام کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ وہ حکومت میں وزیر اور ارکانِ اسمبلی کے طور پر اور ڈاکٹر، ٹیچرز، پروفیسرز، وکلاء اور تاجر کی حیثیت سے کام کرسکتی ہیں۔‘

یہ انتہائی اہم پیش رفت ہے تاہم اب بھی انہیں چیلنجوں کا سامنا ہے کیونکہ کئی خواتین ایسی ہیں جو بنیادی حقوق سے بھی محروم ہیں۔

آکسفیم اور ایکشن ایڈ کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس برس کے دوران لڑکیوں کی تعلیم، صحت اور خواتین کے کام کرنے کے شعبوں میں حقیقی پیش رفت ہوئی ہے جبکہ نئے آئین میں خواتین کو مساوی حقوق دیے گئے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ فلاحی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اس نازک پیش رفت کو افغانستان کی بگڑتی ہوئی سکیورٹی کی صورتحال اور طالبان کے دوبارہ ابھرنے سے خطرہ ہے۔

فلاحی ادارے دس سال پورے ہونے پر برطانوی حکومت سے اپیل کررہے ہیں کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ طالبان کے ساتھ مستقبل میں کسی بھی قسم کے ممکنہ امن معاہدے سے خواتین کے حقوق کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔

اسی بارے میں