’شدت پسندوں کیخلاف جنگ میں دوہرا کھیل کھیلا جارہا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہمیں مرکزی قوتوں سے بات کرنی چاہیے جن کے پاس اختیار ہے: حامد کرزئی

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے پاکستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف جنگ میں دوہرا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔

صدر کرزئی نے کہا ہے کہ پاکستان نے سکیورٹی معاملات میں تعاون نہیں کیا ہے جو کہ ان کے لیے مایوس کن ہے لیکن ساتھ ہی انھوں نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کی بات کی۔

پیر کو ایک نشری تقریر میں حامد کرزئی نے افغانستان اور پاکستان کو ناجدا ہونے والے بھائی قرار دیا لیکن ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ باوجود تمام تباہی، آفات اور مشکلات کہ جن کا پاکستان اور ہمیں سامنا رہا ہے ایک دوہرا کھیل جاری رہا اور شدت پسندی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا۔

انھوں نے کہا کہ امن افغان عوام کی ایک مقدس امید رہی ہے لیکن یہ واضح ہونا چاہیے کہ ’ہمیں کس سے امن قائم کرنا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’حقیقت میں ہمیں حکومتوں کا سامنا ہے اور ان قوتوں کا نہیں جن کا دارومدار ان حکومتوں پر ہے۔‘

انھوں کہا ’اس لیے ہمیں مرکزی قوتوں سے بات کرنی چاہیے جن کے پاس اختیار ہے۔‘

کابل میں بی بی سی کہ پال وڈ کا کہنا ہے کہ حامد کرزئی کا اشارہ پاکستان کی طرف تھا جسے وہ اپنے ملک کی تمام مشکلات کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔

صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت طالبان سے براہ راست مذاکرات کی پالیسی کو ترک کر کے مستقبل میں ان ملکوں سے مذاکرات کرے گی جو طالبان کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔

صدر حامد کرزائی نے لوئی جگرا بلانے کا عندیہ بھی دیا جس میں امن کے قیام کے لیے مستقبل کی حکمت عملی پر بات ہو گی۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ کابل میں افغانستان کے سابق صدر پروفیسر برہان الدین ربانی کو ایک خود کش حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

افغان حکومت نے اس حملے میں حملہ آوروں سے معاونت کرنے کا الزام پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر عائد کیا تھا۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے افغان حکومت کی طرف سے عائد کردہ الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ پروفیسر ربانی پاکستان کے دوست اور خیر خواہ تھے۔

اسی بارے میں